’پولیٹکل ایجنٹ نظام بہتر کروں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں رائج پولیٹکل ایجنٹ نظام کو مستحکم اور فعال بنانے کے لیئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو تین ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کر دے گی۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بدھ کے روز چار سو قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ اس نظام کے تحت اچھے اور تجربہ کار افراد کو پولیٹکل ایجنٹ تعینات کریں گے اور انہیں مزید اختیارات بھی دیں گے۔ صدر کے اس تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس متنازعہ نظام کو نہ صرف برقرار رکھنے بلکہ اسے مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے چند روز قبل اخبارات میں صدر سے منسوب بیانات میں یہ تاثر مل رہا تھا کہ حکومت اس نظام کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ برطانوی دور کے پولیٹکل ایجنٹ کے اس نظام پر اس کے مخالفین یہ کہہ کر تنقید کرتے ہیں کہ اس میں ایک سرکاری افسر کو بےلگام اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔تاہم اس نظام کی سب سے زیادہ حمایت نوکرشاہی کی جانب سے ہوتی رہی ہے جو اسے قبائلی معاشرے کی ضروریات کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ صدر کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوکرشاہی اس نظام کو قائم رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ صدر نے قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیئے لیویز فورس کی تشکیل نو کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں ہزاروں مقامی قبائلیوں کو بھرتی کیا جائے گا۔ قبائلیوں کے اس مطالبے کو کہ وہ خود علاقے کا امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں، صدر نے گورنر سرحد سے مشورہ کرنے کے لیئے کہا تاہم انہوں نے اس کے لیئے چند شرائط سامنے رکھیں جن میں علاقے سے غیر ملکی ’دہشت گردوں‘ کا انخلاء اور انتہا پسندی کا خاتمہ شامل ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ اگر یہ شرائط پوری کر دی جائیں تو وہ علاقے سے فوج کے انخلاء کے بارے میں بھی غور کر سکتے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ فوج علاقے میں کارروائیوں کے لیئے نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں کے لیئے بھیجی گئی ہے۔
امریکہ کی جانب سے باجوڑ میں سرحد کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ ایسا ہوا تاہم وہ انتہائی مختصر وقت کے لیئے تھی۔ جنرل مشرف نے قبائلیوں سے دریافت کیا کہ وہ غیرملکی شدت پسندوں کی جانب سے سرحد کی خلاف ورزی کے بارے میں کیا کہیں گے۔ اس موقع پر صدر نے قبائلی علاقوں کے لیئے سالانہ ترقیاتی بجٹ پانچ ارب سے بڑھا کر دس ارب روپے کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے علاقے میں صعنتی زون قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جہاں قائم صنعتوں کو ڈیوٹی فری سہولت حاصل ہوگی۔ اس جرگے کے دوران وزیرستان سے آئے قبائلی کونسلروں نے گورنر ہاؤس کے مرکزی دروازے پر احتجاج بھی کیا۔ تقریبا تیس قبائلی کونسلروں کا مطالبہ تھا کہ انہیں صدر سے ملاقات کا موقعہ دیا جائے تاکہ ان سے قبائلی کونسلروں کو فعال بنانے سے متعلق بات کی جا سکے۔ صدر پرویز مشرف نے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے ایک منصوبے کے تحت قبائلی کونسلیں قائم کی تھیں لیکن انتخابات کے بعد تقریبا ڈیڑھ برس سے یہ کونسلر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے تاہم پولیس نے انہیں دھکے دے کر وہاں سے ہٹا دیا۔ | اسی بارے میں پشاور اور وانا میں احتجاج، مظاہرے20 January, 2006 | پاکستان فاٹا: کونسلروں کی دھمکی21 February, 2006 | پاکستان حکومت قبائلیوں سے مذاکرات کیوں نہیں کرتی؟22 March, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: چار اہلکار زخمی25 March, 2006 | پاکستان باڑہ میں فسادات اور ہلاکتیں28 March, 2006 | پاکستان طالبان: قبائلی رہنما کو پھانسی 16 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||