اسامہ کہیں اور ہو تو اچھا ہے: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان سے باہر اور کسی دوسرے کے ہاتھوں گرفتاری کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ ان کے خیال میں اسامہ کے لیے چھپنے کی سب سے محفوظ جگہ پاکستان اور افغان سرحد کا علاقہ ہے۔ دریں اثناء امریکی خبر رساں ادارے سی بی ایس نے افغان سرحد پر’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی کے ذمہ دار لیفٹننٹ جنرل صفدر حسین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر اسامہ بن لادن کسی بِل میں چھپے ہوئے ہیں تو انہیں آلات کی مدد سے بھی تلاش کرنا ممکن نہیں۔ سی بی ایس کے مطابق جنرل حسین نے کہا کہ ’کیا اسامہ کو تلاش کرنا اتنا اہم ہے؟ اگر وہ کل پکڑے بھی جائیں تو ان کے نظریات تو ختم نہیں ہو جائیں گے۔ میرے خیال میں ان کا پکڑا جانا اہم نہیں ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے‘۔ جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہےکہ دو ہزار ایک میں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ دار بننے کے بعد سے انہیں واشنٹگن اور ملک میں امریکی ساتھ کی مخالفت کرنے والے شدت پسند عناصر کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑے۔
پاکستان میں القاعدہ کے ہزاروں مبینہ کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں سے انتہائی اہم اراکین بھی شامل ہیں۔ بن لادن پر گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کےحملوں میں بنیادی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ امریکی اتحادی فوجوں کے افغانستان پر قبضے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سےاسامہ بھاگے ہوئے ہیں۔ کئی مبصرین کو یقین ہے کہ اسامہ افغانستان اور پاکستان سرحد کی درمیانی پٹی (نو مینز لینڈ ) میں کسی جگہ موجود ہیں۔ جنرل پرویز مشرف سے جب پوچھا گیا کہ کیا اسامہ کو کبھی پکڑا جاسکے گا تو انہوں نےایسا ہونے کی امید ظاہر کی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ’کوئی ان کی پاکستان سے باہر کسی اور مقام پر کسی دوسرے کے ہاتھوں گرفتاری کو ترجیح دے گا‘۔ دنیا کے اس سب سے مطلوب شخص کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’اس وقت وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے‘۔ ’حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی طریقوں کےذریعے ایک سال پہلے اسامہ کی موجودگی کے بارے میں کچھ اندازہ تھا لیکن بعد میں ہم انہیں کھو بیٹھے۔ انٹیلیجنس ایسے ہی کام کرتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی روپوشی کے بارے میں توقع ہے کہ وہ افغان سرحد کے قریب کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور گیارہ ستمبر کے بعد انہیں امریکہ کے قریبی حلیف کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ جنرل مشرف کی امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے اور ملک میں بنیاد پرست گروپوں پر پابندی لگانے کی کوششوں پر پاکستانیوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||