’اسامہ پاکستان میں نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر داخلہ مخدوم سید فیصل صالح حیات کے مطابق اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں ہیں۔ کیونکہ پاکستانی فوج نے پاک افغان سرحد باقاعدہ طور پر بند کردی ہے۔ بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ سے بات کرتے ہوۓ فیصل صالح حیات کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حالیہ جوہری پروگرام سے متعلق قضیے کے بعد امریکہ کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسے ’القاعدہ‘ کی پاکستان میں تلاش کے سلسلے میں کسی قسم کی چھوٹ دی جاۓ گی۔ بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ کی جانب سے اس سوال پر کہ’ اسامہ کہاں ہیں‘ فیصل صالح حیات کا کہنا تھا ’ ہم نہیں مانتے کہ وہ پاکستان میں ہیں کیونکہ پچھلے دو برسوں سے جس طرح اسامہ کی تلاش میں پاکستان میں جتنے سخت فوجی آپریشن جاری ہیں اگر وہ پاکستانی سرحدی حدود میں ہوتے تو اب تک گرفتار ہو چکے ہوتے‘۔
انہو ں نے اسی سوال پر مزید کہا کہ’ ہو سکتا ہے کے وہ سرحد سےملے ہوۓ کسی علاقے میں موجود ہوں کیونکہ اس سرحد کی طوالت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا‘۔ اس جواب پر ایک بار پھر یہی پوچھا گیا کہ کیا اس سے یہ مطلب لیا جاۓ کہ اسامہ پاکستان سے ملنے والے سرحدی علاقے میں چھپے ہوۓ ہیں تو پاکستانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسامہ پاکستان میں اس لیۓ نہیں ہو سکتے کہ پاکستانی سرحد پر اس وقت ستر ہزار نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور ہم نے باقاعدہ پاک افغان سرحد بند کر دی ہے۔ ’جہاں تک سوال ہے وانا اور جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کار روائی کا تو اس کی وجہ اسامہ نہیں بلکہ یہ شبہات ہیں کہ شاید القاعدہ عناصر ان علاقوں میں موجود ہوں‘۔ دوسری جانب عاشورے پر کوئٹہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہلاکتیں فرقہ واریت کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ ہم اسے دہشت گردی کی کار روائی قرار دیتے ہیں‘۔ (ہارڈ ٹاک پاکستان بی بی سی ورلڈ پر ہر بدھ کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات کو ساڑھے نو بجے اور گرینچ کے وقت کے مطابق سہ پہر ساڑے چار بجے نشر ہوتا ہے۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||