’مشرف حکومت کے خاتمے کی اپیل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائر مارشل نور خان نے مشرف حکومت کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے ضروری ہے کہ پنجاب اپنا کردار ادا کرے۔ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ نے انگریزی روزنامہ دی نیشن میں شائع ہونے والے انٹرویو میں پنجاب کے سیاست دانوں خاص طور گجرات کے چوھدریوں سے کہا ہے کہ وہ مشرف حکومت کی حمایت ختم کردیں۔ انہوں نے مشرف حکومت کو پاکستان کی کمزور ترین انتظامیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوھدری شجاعت حسین اور ان کے رشتے کے بھائی اور وزیر اعلی پنجاب چوھدری پرویز الہی بھی ملک کو درپیش موجودہ بحران میں برابر کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ وہ اس فوجی حکومت کی بھرپور سیاسی حمایت کر رہے ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ قائداعظم گروپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خاص طور پر لاہور ملک کے ثقافتی اور نظریاتی مرکز ہونے کے حوالے سے ملک کو موجودہ دلدل سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس بحران میں پنجاب اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا موجود حکومت کی ناقص پالیسوں کے نتیجے میں یقینی طور پر ملک کسی سانحہ سے دوچار ہو سکتا ہے اور اس کا ذمہ دار پنجاب کو ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی ہر آنے والے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور وزیرستان اور بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کی وجہ سے حالت مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں لوگوں نے کہنا شروع کردیا ہے کہ پنجابی فوج لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اس تاثر کو رد کرنے کے لیئے فوری اقدامات کرنے چاہیں۔ سابق ائرمارشل نور خان نے کہا کہ اگر پنجاب نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو غلط فہمیاں بڑھتی رہیں گی اور ’گریٹر پنجاب‘ بنانے کے منصوبوں کے الزامات کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے موجودہ حکمرانوں کی انڈین پنجاب کے لوگوں سے تعلقات اور رشتے استوار کرنے کی دیرینہ خواہش ہے اور دونوں طرف کے رہنماؤں کے حالیہ دنوں میں دورے اس دیرینہ خواہش کی توثیق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر چوھدری برادران انڈین پنجاب سے آنے والے رہنماؤں کا لاہور میں استقبال کرسکتے ہیں تو پھر وہ اسفند یار ولی کے بھارت جانے پر کیسے اعتراض کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف حکومت نے ملک کو کچھ نہیں دیا اور چوھدری شجاعت اور پرویز الہی اپنے مفادات کی خاطر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ ماضی کے فوجی حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایوب، یحیٰی خان اور ضیاء نے فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر انتہائی فاش غلطی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حکمرانوں کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے ملک کو سن پینسٹھ کی جنگ، مشرقی پاکستان کے سانحے اور کارگل جیسے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حکمرانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ملک کو سن انیس سو پینسٹھ کی اور انیس سو اکہتر کی جنگیں لڑنا پڑیں اور ان کا ذمہ دار غلط طور پر انڈیا کو ٹھہرایا جاتا رہا۔ نور خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اکہتر کے بعد فوجی آمریت کا راستہ روک سکتے تھے مگر انہوں نے وقت پر حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ شائع نہ کر کے یہ موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یحیٰی خان مجیب الرحمان کو اقتدار منتقل کر دیتے تو ملک دولخت ہونے سے بچ سکتا تھا اور مجیب اور بھٹو اپنے اختلافات ختم کر کے کسی نہ کسی مفاہمت پر پہنچ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے حکمران کو انہوں نے مشورہ دیا تھا مگر بدقسمتی سے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ نورخان نے کہا کہ ہمارے فوجی حکمرانوں میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||