BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج کو سیاست چھوڑنا ہوگی‘
محمود اچکزئی
’تحقیق ہونی چاہیے کہ غیر ملکیوں کو لال مسجد کا راستہ کس نے دکھایا‘
پاکستان میں چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم (پاکستان اپریسڈ نیشنز موومنٹ) اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی آل پارٹیز کانفرنس کے سلسلے میں لندن آئے ہوئے ہیں۔ اس دوران وہ بی بی سی ورلڈ سروس کے ہیڈکوارٹر بش ہاؤس بھی آئے، جہاں اردو سروس کے لیے عارف شمیم اور ندیم سعید نے ان کا انٹرویو کیا۔

انٹرویو میں ان کے ساتھ لال مسجد آپریشن سے لیکر پاکستان کے سیاسی منظر نامے اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ محمود خان اچکزئی سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کچھ یوں تھے۔

عارف: موجودہ سیاسی صورتحال میں آپ پاکستان کو کہاں جاتا دیکھ رہے ہیں؟

اچکزئی: ہماری بدقسمتی یہ کہ پاکستان میں جمہوری نظام پنپنے ہی نہیں دیا گیا اور اس حوالے سے ہماری افواج کا کردار انتہائی خطرناک رہا ہے، جنہوں نے ہر دفعہ آئین بننے کا راستہ روکا۔ اب تک چار مارشل لاء لگ چکے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ فوج نے پاکستان کو توڑنے سے بھی گریز نہیں کیا۔

بارہ اکتوبر 1999 کے بعد نیشنل سکیورٹی کونسل قائم کر کے سیاست کا گلا ویسے ہی گھونٹ دیا گیا ہے۔ ہماری خارجہ اور داخلہ پالیسی فوج اور خفیہ ادارے بناتے ہیں۔ اگر ہم سب نے مل کر افواج پاکستان اور اس کے جاسوسی اداروں کا راستہ نہ روکا تو پاکستان کے لیے نتائج اچھے نہیں ہونگے۔

عارف: کیا سیاسی جماعتیں سیاست میں فوج کا کردار ہمیشہ کے لیے ختم کرنے میں کامیاب ہو جائینگی؟

کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا
 ہم ایم ایم اے کو الزام دیتے ہیں سترہویں ترمیم کا ۔۔۔ لیکن کس کس سے یہ غلطی نہیں ہوئی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کسی جرنیل یا خفیہ ادارے کا پردے کے پیچھے یا سامنے کبھی ساتھ نہیں دیا
محمود خان اچکزئی

اچکزئی: مہذب معاشروں کا اصول ہے کہ جس کے پاس تلوار ہے، اس کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ خوش قسمتی کی بات ہے کہ لندن میں ہونے والی اے پی سی میں تمام جماعتیں اس نقطہ پر متفق ہوگئیں ہیں کہ سیاست میں فوج اور خفیہ اداروں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ حکمرانی کا حق صرف عوام کو ہے۔

عارف: لال مسجد تنازعے کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

اچکزئی: افغانستان میں سوویت فوجوں کی مداخلت پر امریکہ نے حمکت عملی کے تحت خطے میں اپنی کارروائیاں شروع کیں، پوری دنیا سے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور پاکستان کے جاسوسی اداروں کو (مجاہدین کی) تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی۔

لیکن غلطی یہ ہوئی کہ دنیا بھر کی خطرناک تربیت دینے کے بعد (مجاہدین کی) فہرستیں نہ رکھی گئیں اور جنگ کے بعد انہیں کھلا چھوڑ دیا گیا اور اب پوری دنیا پریشان ہے۔ امریکہ کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے تھی افغانستان میں تعمیر نو اور اداروں کی بحالی کے حوالے سے۔ بیرونی مداخلت (افغانستان میں) نہ ہونے کی ضمانت لی جانی چاہیے تھی۔ امریکہ چلا گیا لیکن تربیت سے متعلق لوگ اپنے کام میں مشغول رہے۔

عارف: ۔۔۔ لیکن لال مسجد میں کیا ہوا؟

اچکزئی: المناک واقعہ ہے۔ وزراء اور فوج کہتے رہے کہ اندر غیر ملکی دہشت گرد ہیں۔ لیکن سوال یہ کہ انہیں لال مسجد کا راستہ کس نے دکھایا۔ لگتا یوں ہے کہ پرانے تعلقات کی بنیاد پر یہ لوگ لال مسجد آیا کرتے تھے۔ واقعہ کی کسی ایماندار جج کی نگرانی میں تحقیق ہونی چاہیے۔

ندیم: آپ افغانستان میں انتہاپسند عناصر مثلاً طالبان کی مذمت کرتے آ رہے ہیں، لیکن حال ہی میں تشکیل پانے والے اتحاد آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں ایسی جماعتوں کے ہمرکاب ہیں جو طالبان نواز سمجھی جاتی ہیں؟

خود مختار افغانستان اور جمہوری پاکستان ہی خطے میں امن کی ضمانت ہیں

اچکزئی: جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ اختلافی نظریات رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کیا جائے۔ طاقت اور بندوق کے زور پر نظریات نہ ٹھونسے جائیں۔ انتہا پسند عناصر کا راستہ ہم نے اور ایم ایم نے مل کر کرنا ہے۔

ہمارا شکوہ یہ کہ اگر پاکستان میں آپ ووٹ کی سیاست کرتے ہیں تو افغانستان میں ملا عمر قائد حزب اختلاف کیوں نہیں بن سکتے یا پھر عوام کی حمایت سے کرزئی کی جگہ صدر بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ہمیں تہہ دل سے طے کرنا ہے کہ خود مختار افغانستان اور جمہوری پاکستان ہی خطے میں امن کی ضمانت ہیں۔

ندیم: اے پی ڈی ایم میں ایم ایم اے آپ کی اتحادی ہے، جس نے آئین میں سترہویں ترمیم کے ذریعے فوجی حکمران کے تمام غیر آئینی اقدامات کو تحفظ فراہم کرنے کی راہ ہموار کی؟

اچکزئی: بات یہ ہے کہ ہم نے سیاست کرنی ہے ۔۔۔۔ بڑی نازک رسی پر چلنا ہے۔ ہم ایم ایم اے کو الزام دیتے ہیں ستارھویں ترمیم کا ۔۔۔ لیکن کس کس سے یہ غلطی نہیں ہوئی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کسی جرنیل یا خفیہ ادارے کا پردے کے پیچھے یا سامنے کبھی ساتھ نہیں دیا۔

ندیم: پیپلز پارٹی کے بغیر جمہوری تحریک کی کامیابی کے امکانات کم نہیں؟

اچکزئی: یہ فیصلہ پیپلز پارٹی نے کرنا ہے، اس کی اپنی جمہوری تاریخ ہے۔ جن لوگوں نے قربانیاں دی ہیں وہ (پارٹی قیادت کو) مجبور کرینگے (اتحاد میں شمولیت کے لیے)۔ کسی بھی جمہوری پارٹی کے لیے اے پی ڈی ایم سے باہر رہنا مشکل ہوگا۔ پی پی پی اگر باہر رہتی ہے تو یہ اس کی بدقسمتی ہوگی۔

عارف: آپ سمجھتے ہیں کے مستقبل میں پیپلز پارٹی اتحاد میں شامل ہو جائے گی؟

اچکزئی: ہماری خواہش ہے اور کوشش بھی ہوگی، پیپلز پارٹی نے بھی صاف انکار نہیں کیا۔

ندیم: نواز شریف پنجاب کے رہنماء سمجھے جاتے ہیں اور آپ سمیت کئی قوم پرست رہنماء ان کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کیا پنجاب سے شکایتیں دور ہوگئی ہیں؟

ملا عمر قائد حزب اختلاف
 شکوہ یہ کہ اگر پاکستان میں آپ ووٹ کی سیاست کرتے ہیں تو افغانستان میں ملا عمر قائد حزب اختلاف کیوں نہیں بن سکتے یا پھر عوام کی حمایت سے کرزئی کی جگہ صدر بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے
محمود خان اچکزئی

اچکزئی: کسی بھی فرد سے مذہب، رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر فاصلے نہیں بڑھائے جا سکتے۔ پاکستان ایک کثیرالاقومی ریاست ہے، ہم نے وفاق میں رہتے ہوئے ایمانداری سے آگے بڑھنا ہے۔ سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون عوام حق حکمرانی اور اپنے وسائل پر اختیار مانگ رہے ہیں۔ اگر حق حکمرانی مانگنا جرم ہے تو جناح اور گاندھی بھی غدار تھے۔

ندیم: پشتون اور مذہبی شدت پسندی کسی طرح ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں، کیا وجہ ہے؟

اچکزئی: افغان اور پشتون تاریخی طور پر کبھی بھی دہشت گرد اور انتہا پسند نہیں رہے۔ اس خطے میں پہلی دہشت گردی سکندر (الیگزنڈر) کی صورت میں یورپیئن نے کی۔ وزیرستان میں 1965 کی جنگ تک ہندو آباد تھے۔ اس جنگ کے بعد وزیر اور محسود قبائل نے جرگہ کر کے ہندو آبادی سے کہا کہ ان کے لیے اب یہاں رہنا شاید مشکل ہو جائے، چنانچہ عزت و احترام کے ساتھ بسوں پر بیٹھا کر ہندوستان روانہ کیا گیا۔

عارف: صدر مشرف کا کہنا ہے کہ لال مسجد آپریشن پر دل رویا لیکن کرنا پڑا؟

اچکزئی: جنرل مشرف اور ان کے ادارے کو ماننا پڑے گا کہ وہ تربیت دیتے رہے ہیں (مذہبی انتہا پسندوں کو) اور دباؤ آیا تو گولیاں برسائیں۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وزیرستان میں ازبک اور تاجک دہشت گرد ہیں۔ اِنہیں خارجی عناصر سے قبائلی علاقوں میں معتبر لوگوں کو بڑے پیمانے پر مروایا گیا۔

تحقیق ہونی چاہیے کہ غیر ملکیوں کو کون لایا۔ غلطی ماننی پڑے گی، چالاکیوں سے دنیا کو اب دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ مدرسے تو مسکینوں کا ٹھکانہ ہوا کرتے تھے، انہیں دہشت گردی کا مرکز آخر کس نے بنایا؟

عارف: الیکشن ہونگے؟

اچکزئی: اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے اگر اپنے کارڈ صحیح طرح کھیلے تو فوجی حکمران کو عبوری حکومت بنا کر اقتدار چھوڑنا پڑ جائے گا۔

احتجاجی مظاہرہایک نئی جنگ؟
لال مسجد آپریشن کے بعد کی صورتحال
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
بلوچ اور’گریٹ گیم‘
بلوچستان: طاقت کی رسہ کشی میں پھنسایا گیا
وزیرستانطالبان سے معاہدہ
وزیرستان خطے میں امن فارمولوں کی تجربہ گاہ
حامد کرزئیتوتو، میں میں
افغانستان اور پاکستان کے درمیان شکوہ،جواب شکوہ
سیمینار: خودمختاری
بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ
کالا باغہم نہیں مانتے
قوم پرستوں کو بھاشا ڈیم بھی نامنظور
اسی بارے میں
فوج کے 55 کاروباری ادارے
26 April, 2005 | پاکستان
چھاؤنیاں کہاں اورکیوں؟
21 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد