جنرل مشرف کے لیے ایک نئی جنگ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے خاتمے کے ساتھ ہی صدر مشرف کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہے جو آنے والے دنوں میں بڑے شہروں کی بجائے شاید چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں لڑی جائے۔ ایک طرف آپریشن میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں حکومتی خاموشی ملک بھر میں چہ میگوئیوں کو ہوا دے رہی ہے تو دوسری جانب پاکستان کے سیاسی گروہوں میں ایک نئی صف بندی کا عندیہ مل رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے لیے اپنی جماعت کی محتاط حمایت کا اعلان کر چکی ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ سر عام لال مسجد والوں کے انجام پر بغلیں بجاتی نظر آتی ہے۔اور مسلم لیگ قاف تو خیر ہے ہی حکومتی جماعت۔ ساتھ ہی ساتھ لندن میں ہونے والی کثیر الجماعتی کانفرنس کے رنگ میں بھنگ ڈالنے والے مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے بھی واضح ہے کہ وہ لال مسجد کے معاملے پر صدر مشرف کی حکومت کے لیے ایک معقول حد سے بڑھ کر سردردی کا سبب نہیں بنیں گے۔ 1970 کے بعد کے پاکستان میں شاید ہی ملک کے شہریوں کے خلاف ایک بھرپور فوجی ایکشن کو اس قدر سیاسی حمایت ملی ہو۔
ملک کی بڑی اور سیکولر سیاسی جماعتوں کی موجودہ سیاست کو سمجھنے کے لیے کسی قسم کی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ہر کوئی اپنا بنیادی مفاد دیکھ رہا ہے اور پاکستانی سیاست کے مستند اصولوں کے مطابق کوئی بھی فوج کی طے کردہ سیاسی روش سے ہٹ کر چلنے کو تیار نہیں۔ لیکن یہ سیاسی طالع آزمائی پاکستان کو کہاں لے جا رہی ہے ، لال مسجد سے اٹھنے والے دھوئیں میں سے اس کے کچھ کچھ خدوخال ابھرنےلگے ہیں۔ لال مسجد کے واقعہ سے متعلق شاید ایک اہم ترین سوال ابھی تک زیر بحث نہیں آیا۔ کیا عبدالرشید غازی اور ان کے چند درجن مورچہ بند جنگجو واقعی سمجھتے تھے کہ وہ اسلام آباد کے وسط میں پاکستان کی لگ بھگ چھ لاکھ فوج کو شکست دے کر اقتدار پر قبضہ کر لیں گے؟ ایسا ممکن نہیں تھا۔ عبدالرشید غازی تقریباً دس برس سے فوجی انٹیلیجنس اداروں کے قریبی معاون تھے۔ ان کے ساتھ مارے جانے والے بہت سے ساتھی بھی شاید کسی خفیہ ہاتھ کی مدد سے ہی غازی تک پہنچے تھے۔ وہ فوج اور اس کے اداروں کے طریقہ کار، سیاسی داؤپیچ اور مقاصد سے اچھی طرح واقف تھے۔ آخری لمحے تک جاری مذاکرات کی جو تفصیلات وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے جاری کیں ان کے مطابق آخری ثالث بھی کمانڈر فضل الرحمٰن خلیل مقرر ہوئے جو ایک عرصے تک پاکستانی جہادی ڈھانچے کا ایک کلیدی کردار رہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عبدالرشید غازی اپنے ماضی کے آقاؤں کی نیت اور ارادوں کے بارے میں کسی بھی قسم کا دھوکہ کھائیں؟
وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس خونی کھیل کا انجام ان کی موت کی شکل میں سامنے آئے گا۔ اور وہ مرنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ لال مسجد کے محاصرے کے چوتھے روز سے ہی انہوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ ان کو تو کئی فارمولے منظور ہیں لیکن ان کے ساتھی نہیں مانتے۔ یہ ساتھی کون تھے اور سوال پھر وہی کہ کیا ان ساتھیوں کا واقعی یہ خیال تھا کہ وہ پاکستانی فوج کا مقابلہ کر لیں گے؟ اس سال جنوری میں لال مسجد کے بحران کے آغاز میں ہی ایسا لگنے لگا تھا کہ اس مسجد کے جنگجو حکومت کے ساتھ مسلح ٹکراؤ پر تلے ہوئے ہیں۔ محاصرہ شروع ہونے کے بعد سیکیورٹی حکام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کالعدم جیشِ محمد سے تھا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی انٹیلیجنس اداروں نے جیش سے اپنا رابطہ توڑ لیا تھا جس کے بعد اس تنظیم کے کارکن تتر بتر ہو گئے تھے۔ پچھلے پانچ برسوں میں وہ کہاں رہے اور ان کا کس طرح کے عناصر سے رابطہ رہا، اس بارے میں انٹیلیجنس کے ادارے غالباً بہت کم جانتے ہیں۔ لیکن لال مسجد کے لیے لڑی جانے والی جنگ کے بعد اب سیکیورٹی معاملات کے تجزیہ کاروں میں یہ رائے زور پکڑتی جا رہی ہے کہ جیشِ محمد کے یہ سابق کارکن ایک خاص ایجنڈے کے تحت لال مسجد پر قابض ہوئے اور عبدالرشید غازی کو بادل نخواستہ بارود کے جہنم میں جھونک دیا۔ اس ایجنڈے کا مقصد غالباً پاکستان میں موجود تمام مذہبی عسکریت پسندوں کو یہ باور کرانا تھا کہ نہ تو پاکستانی فوج پہلے جیسی رہی اور نہ ہی پارلیمنٹ میں انتہا پسندوں کے سیاسی کفیلوں میں وہ دم خم باقی ہے۔ شاید ان کا مقصد ہی یہ تھا کہ اپنی اور دوسروں کی جانوں کا نذرانہ دے کر وہ ملک کے تمام مذہبی جنونیوں کو اس بات پر قائل کر سکیں کہ پاکستان میں اسلامی انقلاب کا راستہ صرف اور صرف بارودی سرنگوں اور کلاشنکوفوں کے سائے سے گزرتا ہے۔ شاید وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ آج کل کے ماحول میں مذہبی عسکریت پسندی کے خاتمے کے نام پر سو قتل بھی معاف ہو سکتے ہیں۔ بنیاد پرستوں کی زبان میں یہ پیغام کچھ یوں ہو گا کہ اگر آپ کے چہرے پر داڑھی اور لب پر کلمہ ہے تو پرویز مشرف، جارج بش اور گورڈن براؤن کی دنیا میں آپ کے لیے کوئی جگہ نہیں جب تک آپ بزورِ بارود اپنے لیے جگہ بناسکیں۔ ان جنگجوؤں کے خیال میں لال مسجد آپریشن کے بارے میں پاکستان کی تمام بڑی جماعتوں کا بے حس رویہ اس دلیل کے حق میں منہ بولتا ثبوت ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کی مندرجہ بالا سوچ اگر واقعی درست ہے تو آنے والے دنوں میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ایک نہیں بلکہ بہت سے شہروں اور قصبوں میں ایک نیم جنگی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ تو صدر مشرف اور انکے ترتیب شدہ ڈھانچے کی کوئی اہمیت رہے گی اور نہ ہی ان کے اردگرد منڈلانے والے سیاسی ٹولے کی۔ اور شاید یہی وہ کامیابی ہوگی جس کے لیے درجنوں مذہبی جنگجؤں نے لال مسجد کے احاطے میں اپنی جان پیشگی دے ڈالی۔ |
اسی بارے میں جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان فرق شاید سیمنٹ اور لکڑی کا تھا11 October, 2005 | پاکستان وفاداری کا نیا حلف03 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||