وردی پر امریکی کشمکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کے سیاسی عزائم اور ان سے جڑا پاکستان کا مستقبل آج کل قومی ہی نہیں بین الاقوامی مبصرین کی بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شاید اسی لیے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بنیادی طور پر ایک درمیانے درجے کے اہلکار رچرڈ باؤچر کے پاکستانی دورے کے موقع پر بڑے بڑے امریکی اخباروں اور تھنک ٹینکس نے تجزیے کیے ہیں۔ بارہ جون کو امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے ایک تفصیلی تجزیے میں صدر مشرف کی موجودہ سیاسی مشکلات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش کو بالکل ویسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جو رونلڈ ریگن کو فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس کے حوالے سے درپیش تھی۔ یہ اخبار لکھتا ہے کہ صدر ریگن ذاتی طور پر مارکوس کے وفادار رہنا چاہتے تھے۔ وہ مارکوس کے اچانک چلے جانے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے گھبراتے تھے اور ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ وہ مارکوس کو ویسے ہی تنہا چھوڑ دیں جیسا سن انیس سو اناسی میں جمی کارٹر نے شہنشاہ ایران کو چھوڑا تھا لیکن آخرکار انہیں ایسا کرنا پڑا۔
لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وال سٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ ریگن ہی کے دور میں امریکہ نے ہیٹی، جنوبی کوریا، تائیوان اور چلی کی آمریتوں کی حمایت بھی ترک کی۔ وال سٹریٹ جرنل کے اس تجزیے کے مطابق پاکستان کا معاملہ نسبتاً پیچیدہ اس لیے ہے کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن پھر بھی امریکہ کو ایسا کوئی خوف دل میں نہیں رکھنا چاہیے کہ صدر مشرف کے جانے سے یہ ہتھیار مذہبی انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ اس کی توجہ اس وقت صرف اس چیز پر ہونی چاہیے کہ صدر مشرف نے وعدے تو خوب کیے ہیں لیکن ان کے اعمال ان وعدوں پر پورا نہیں اترتے۔ لہذا صدر بش کی صدر مشرف کو حمایت سے ہاتھ کھینچنے کی بجائے اس بات پر اصرار کرنا چاہیے کہ پاکستان میں آئین کو اپنا کردار ادا کرنے دینا چاہیے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر مشرف کو دو میں سے ایک عہدہ چھوڑ کر اس سال اکتوبر میں آزادانہ انتخابات کرا دینے چاہیں جن میں تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی اجازت ہو۔ اس طرح امریکی تھنک ٹینک سٹریٹفور بارہ جون کو جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہتا ہے کہ اگر صدر مشرف کسی بھی طور دوسری مدت کے لیے صدر رہنے کی کوشش کریں گے تو بہت کچھ بگڑ سکتا ہے۔
لیکن اگر صدر مشرف یہ بات مان بھی لیں تو بھی وہ کم از کم اس سال اکتوبر تک صدر رہنا چاہیں گے جب فوج کی اعلیٰ قیادت میں کئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ صدر مشرف چاہیں گے کہ وہ اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے جرنیلوں کی جگہ ایسے افسر لگائیں جن کے ساتھ وہ بحیثیت ایک سویلین صدر باآسانی کام کر سکیں۔ اور شاید یہی آگے کا رستہ ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی بھی آپشن انہیں وہ سیاسی حمایت نہ دے سکے گا جو انہیں چاہیے۔ مثلاً سٹریٹفور کے مطابق ایک باوردی صدر کے ساتھ سمجھوتہ ایک ایسی لال لکیر ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پی پی پی کے لیے پار کرنا ممکن نہ ہوگا۔ آخر میں سٹریٹفور لکھتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے ہر حال میں ایک انتہائی پیچیدہ سیاسی انتظام کرنا ہوگا جس میں صدر مشرف کی وردی کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ |
اسی بارے میں کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان حدود کی سیاسی اور قانونی حدود16 November, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان میں غالب کون؟08 May, 2006 | پاکستان طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی پالیسی08 May, 2006 | پاکستان شاید فوج کے بس میں بھی نہیں09 October, 2005 | پاکستان نیا کھیل پرانےکھلاڑی01 December, 2004 | پاکستان کون آئے گا اور کون جائے گا؟24 November, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||