امریکی انتخاب کون جیتا، ہمیں کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کوئی بہت مزیدار قصہ نہیں اور نہ ہی اتنا غیر معروف کہ لوگوں نے سنا نہ ہو۔ لیکن اکثر نئے حالات کو سمجھنے کے لیے پرانے قصوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو بہت معذرت کے ساتھ دہراتا ہوں کہ ایک بادشاہ اپنی کابینہ سے بہت نالاں تھا۔اسے شکایت تھی کہ اس کے وزراء اسے اہم ملکی امور پر اندھیرے میں رکھتے ہیں اور صرف اس کا نائی ہے جو اسے جنتا کا اصل حال بتاتا ہے۔ آخر تنگ آ کر اس نے نائی کو ہی وزیر اعظم بنا دیا۔چند روز تو خوب گزرے اور بادشاہ ہوشیار و باخبر رہا لیکن پھر نائی نے بھی دوسروں کی طرح ’سب اچھا ہے‘ کی رٹ لگائی۔ اب تو بادشاہ بہت بھنایا ، جب نائی کو ڈانٹا تو وہ معصومیت سے بولا: ’پہلے عوام میں بیٹھتا تھا تو عوام کی بات آپ تک پہنچاتا تھا ۔ اب میرا اٹھنا بیٹھنا وزیروں اور امیروں میں ہے ، ظاہر ہے انہیں کی بات کروں گا‘۔ اس ہفتے ہونے والے امریکی انتخابات میں پاکستانیوں کی دلچسپی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کے پاکستان میں ان انتخابات کے بارے میں کون کیا رائے رکھتا ہے تو صرف یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کی سیاسی کِل کہاں جڑی ہے؟ باقی خود بخود سمجھ میں آ جائے گا ۔ صدر مشرف کے حامی، جن کی آج کل پاکستان کے نجی ٹیلی وژن چینلز پر بھرمار رہتی ہے، امریکی انتخابات کے بارے میں ہر سوال کا جواب مسکرا کر دیتے ہیں۔ جواب تو ان کا گول مول ہی ہوتا ہے لیکن ان کی مسکراہٹ بغلیں بجا بجا کر کہہ رہی ہوتی ہے کہ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو امریکی خارجہ پالیسی پر صدر بش کی گرفت قائم رہے گی۔ امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے بیان کے بعد، جس میں انہوں نے امریکہ کی پاکستان پالیسی تبدیل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ، صدر کے حامیوں کی مسکراہٹ تقریباً قہقہوں میں بدل گئی۔ حزب اختلاف میں نمایاں جماعت پیپلز پارٹی ہے جو کئی سال سے افہام و تفہیم کی سیاست میں کریش کورس کر رہی ہے۔ پارٹی کے ایک نمایاں رہنما چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ صدر بش کے اختیارات جوں کے توں بھی رہیں تو بھی کانگریس میں ان کی پارٹی کی شکست ان کے بیرون ملک حلیفوں کے لیے باعث تشویش ہو گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں سمجھا جائے تو کہنے لگے کہ پہلے والی بات تو نہیں رہے گی نا۔ چوہدری صاحب حکومت میں نا سہی، واہاں کے نکالے ہوئے تو ہیں۔ ابھی امریکی صدارتی انتخابات میں دو سال باقی ہیں، وہ کیوں کوئی ایسی بات کریں جس سے کسی اہم امریکی اہلکار کی دل آزاری ہو؟ ایسی باتیں صرف عمران خان کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ابھی ان کی سیاسی کل کہیں جڑی ہی نہیں۔ انہوں نے بے دھڑک دعا کی کہ قدرت سب کو بش کے شر سے محفوظ رکھے لیکن یہ کرشمہ موجودہ انتخابات میں ہوتا نظر نہیں آتا ۔ اب آئیے عوام کی طرف۔میں نے ہمدرد یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر منظور احمد سے امریکی انتخابات میں پاکستانیوں کی دلچسپی کا ذکر چھیڑا تو سخت بیزار لہجے میں کہنے لگے: ’جن کو اپنے حالات میں دلچسپی نہ ہو ان سے ہزاروں میل دور کے معاملات میں دلچسپی کی توقع رکھنا حماقت ہو گی۔‘ لیکن کیا پاکستان کا مستقبل امریکی سیاست سے نہیں جڑا ہوا؟ ڈاکٹر منظور کہنے لگے کبھی کسی نے ہمارے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم کس دلدل میں ہیں اور کیوں دھنستے ہی جا رہے ہیں؟ نا تو کسی یونیورسٹی یا کالج میں سٹڈی سرکلز کا رواج ہے اور نا ہی سیاسی جماعتوں میں اتنا شعور کے وہ اپنے مفاد سے قطع نظر عوام کو عقل و دانش کی طرف لانے کی کوشش کریں ۔ ایسے میں ایک عام پاکستانی کی امریکی انتخابات میں دلچسپی صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب اس کے نتائج امریکہ کی ویزہ پالیسی پر اثر انداز ہو سکیں ۔ موجودہ انتخابات میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ۔ رہی بات دہشت گردی کے خلاف بش حکومت کی پالیسیوں کی، تو وہ ہمیں اچھی لگیں یا بری بقول امریکی حکمرانوں کے وہ تو اسی طرح جاری رہین گی ۔ ہمیں کیا؟ | اسی بارے میں واپسی کا سفر شروع: ہیلری کلنٹن08 November, 2006 | آس پاس ایوان نمائندگان، ڈیموکریٹس کے پاس08 November, 2006 | آس پاس امریکی انتخابات: کون جیتا، کون ہارا؟08 November, 2006 | آس پاس ڈیموکریٹس کا سینٹ پر بھی غلبہ09 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||