BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 July, 2007, 21:56 GMT 02:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تحریک چلائیں نہ استعفے دیں‘

اے پی ڈی ایم میں عابد حسن منٹو کی جماعت بھی شامل ہے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور آئینی ماہر، عابد حسن منٹو نے حزب اختلاف کے حال ہیں میں قائم ہونے والے اتحاد ’اے پی ڈی ایم‘ کو پارلیمان سے اجتماعی استعفوں کا حربہ انتہائی سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اسلام آباد میں کل جماعتی تحریک جمہوریت کی ایکش کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا حزب اختلاف کے پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں کی صورت میں پارلیمنٹ کی عدم موجودگی فوجی صدر کے عزائم اور اقتدار کو تقویت پہنچانے کا باعث ہو سکتے۔ لہذا استعفوں کا حربہ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہو گا۔

حزب اختلاف کے نئے اتحاد کل جماعتی تحریک جمہوریت (اے پی ڈی ایم) میں حال ہی میں شمولیت اختیار کرنے والی جماعت نیشنل ورکرز پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے پیر کے روز ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں نے کہا کہ اس موقع پر صدر کی وردی اور دیگر اہم امور پر عدالت کے در پر دستک بھی مناسب نہیں ہو گا۔

عابد حسن منٹو کو صدر مشرف اور حکومت کے خلاف عدالتی جنگ شروع کرنے کے موضوع پر مشاورت کے لئے خصوصی طور پر اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس حوالےسے مختلف تجاویز پیش کئیں۔

منٹو کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کو عدالت میں چیلنج تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس نازک وقت میں عدالت پر سیاسی مقدمات کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہو گا۔ سیاستدانوں کو پہلے یہ لڑائی سیاسی محاذ پر لڑنا ہو گی۔

عابد حسن کا کہنا تھا کہ ابھی یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ بعض حساس اور اہم قومی معاملات اگر عدالت میں جاتے ہیں تو کیا اے پی ڈی ایم کو اس میں فریق بھی بننا چاہئے یا نہیں۔

حزب اختلاف کی جانب سے کسی باقاعدہ تحریک کا اعلان نہ کرنے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی سالوں بعد وکلا کی مہربانی سے ملک میں تھوڑی بہت سیاسی ہلچل ہوئی ہے لیکن سیاسی تحریک کا ماحول بننے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں اہم سنگ میل وہ وقت ہو گا جب صدر مشرف وردی میں رہتے ہوئے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کا یہ اعلان حزب اختلاف کی تحریک کا نکتہ آغاز ہو سکتا ہے۔

منٹو کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کا پروگرام یہ ہے کہ اگست کے مہینے میں چار پانچ جلسے کر کے عوام کو گھروں سے باہر نکالنے کا کام شروع کیا جائے اور اس کے بعد رمضان کے مہینے میں ہوم ورک مکمل کر کے عید کے فوراً بعد باقاعدہ تحریک شروع کر دی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد