BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 16:34 GMT 21:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے، مسلم لیگ کا اتحاد

نیا اتحاد مشرف کے خلاف تحریک چلائے گا
پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے بدھ کو لندن میں ’آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ‘ (اے پی ڈی ایم) کے نام سے ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی شامل نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر تشکیل دیئے جانے والے اس اتحاد کا مقصد جو کہ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نواز شریف نے ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بیان کیا وہ ملک میں فوجی حکومت کے خلاف تحریک چلانا اور ایک غیر جانبدار حکومت کے تحت نئے انتخابات کرانا ہے۔

ان اہداف کے حصول کے لیے نئے اتحاد نے عوام کو متحرک کرنے کے لیے نو اگست کو کوئٹہ میں اور چودہ اگست کو راولپنڈی میں عوامی جلسوں کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اتحاد کے رہنماؤں نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جس کے کنونینئر یا رابطہ کار مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق کو مقرر کیا گیا ہے۔

عمران خان اور محمود خان اچکزئی
عمران خان اور محمود خان اچکزئی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اس نئے اتحاد میں شامل ہونے کے فیصلے کے بعد اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت ٹوٹ گیا ہے۔ سات سال پہلے محروم رہنما نوابزادہ نصر اللہ خان نے اے آر ڈی بنائی تھی اور ان کے بیٹے نواب زادہ منصور علی خان بھی اس نئے اتحاد اے پی ڈی ایم میں شامل ہو گئے ہیں۔

نئے اتحاد کو تشکیل دینے کے لیے بلائے جانے والے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے مخدوم امین فہیم کی قیادت میں شرکت کی لیکن وہ اس اجلاس کا عملاً بائیکاٹ کرکے چلے گئے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے نئے اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ تاریخ کو منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ملک میں فوجی حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دیا جائے۔

اس اتحاد میں مسلم لیگ (ن) کے دعوؤں کے مطابق تیس سے زیادہ پارٹیاں شامل ہیں تاہم جن جماعتوں کے نام حاصل کیئے جا سکے ان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام سمیت متحدہ مجلس عمل کی چھ جماعتیوں اور چھوٹے صوبوں کی جماعتوں کے اتحاد کی سترہ جماعتوں بھی شامل ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مستعفی ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے

پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شامل نہ ہونے کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ اتحاد کے دروازے اب بھی ان پر کھلے ہیں اور وہ چاہیں تو بعد میں بھی اس اتحاد میں شامل ہو سکتی ہے۔

نواز شریف نے اپنی وطن واپسی کے بارے میں سوال کو انشا اللہ کہہ کر ٹال دیا۔ایک اور سوال پر کہ یہ کہا جا رہا تھا کہ آپ (نواز شریف) اور بے نظیر بھٹو ایک ہی طیارے میں وطن واپس جائیں گے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس طیارے میں سیٹیں نہیں ملیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ نئے اتحاد کی طرف سے مشرف حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا آغاز برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ستائیس جولائی کو ایک احتجاجی جلسے سے کیا جائے گا۔

متحدہ مجلس عمل کی طرف سے بلوچستان اور صوبہ سرحد کی صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا وہ اے پی ڈی ایم کی مشرف حکومت کے خلاف تحریک کے دوران استعفوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے اور اسی وقت اس ہتھیار کا استعمال کیا جائے گا جب یہ سب سے کاری ثابت ہو گا۔

نوازشریفنوازشریف کی کوشش
مشرف کے خلاف اے پی سی بلانے کی تیاری
نواز شریف اور بینظیرپی پی پی، نواز لیگ
پی پی پی (ن) لیگ کواعتراضات بتائے گی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد