’آئندہ ایم کیوایم سے اتحاد نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کی لندن میں دو روزہ کانفرنس کے بعد اتوار کو پیش کیئے جانے والے مشترکہ اعلامیہ میں متحدہ قومی موومنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ آئندہ کسی سیاسی اتحاد میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم رہنما الطاف حسین کا نام لے کر کہا گیا کہ ان کے پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کی کارراوئیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں برطانوی حکومت کو ایک یاد داشت پیش کی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اس مشترکہ اعلامیہ پر اپنے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی اردو سروس کو کہا کہ یہ غریب اور متوسط طبقے کی جماعت کا راستہ روکنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو ستر میں سیاسی جماعتوں نے عوامی لیگ کا راستہ روکنے اور اسے تناہ کرنے کی اس طرح کی کوشش کی تھی جس سے ملک دو لخت ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کسی سیاسی جماعت سے کبھی کوئی اتحاد نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا یہ ساری جماعتیں انتخابی اتحاد بناتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ جماعتیں ایم کیو ایم کے ہیڈکواٹر نائن زیرو کے چکر لگاتی رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’آنے والے عام انتخابات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘ کل جماعتی کانفرنس کے دو روزہ اجلاس کے دوران ہونے والی تقاریر میں بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے ایم کیو ایم پر سخت تنقید کی گئی۔ کانفرنس کے اختتامی دور میں ایم کیو ایم حقیقی کے ایک نمائندے نے بھی تقریر کی اور کراچی میں گزشتہ سالوں میں مبینہ طور پر مارے جانے والے حقیقی دھڑے کے دو سو سے زیادہ کارکنوں کی ہلاکت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ انہلاکتوں کی خبر تک دینےسے گریزاں ہیں۔ کل جماعتی کانفرنس کے آخر میں سلمان رشدی کو سر کا خطاب دینے کی بھی مذمت کی گئی۔ تاہم یہ قرار داد زبانی طور پر پیش کی گئی اور اس کا اصل قرار داد میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ | اسی بارے میں اے پی سی ختم، کئی نکات پر اتفاق 08 July, 2007 | پاکستان اے پی سی کے موقف پر فیصلہ آج07 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||