اے پی سی نرم موقف پر مجبور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل جماعتی کانفرنس نے اتوار کو لندن میں ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ جنرل مشرف کی طرف سے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی کوششوں کی ہر ممکن طور پر مزاحمت کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر اسمبلیوں سے استعفے دینے کا حربہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے پلیٹ فارم سے لندن میں بلائی جانے والی دو روزہ کل جماعتی کانفرنس میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پر عمومی اتفاق تو پایا گیا لیکن استعفے پیش کرنے کے طریقے کار یا اس سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ کانفرنس کے پہلے دن مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کی طرف سے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے یا پھر تمام جماعتوں کی طرف سے حکومتی امیدواروں کے خلاف متحدہ طور پر ’ون آن ون‘ کی بنیاد پر انتخابات میں شریک ہونے کی تجاویز پر بھی کوئی اتفاق نہیں ہو سکا اور مشترکہ اعلامیہ میں ان نکات پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ کانفرنس میں دو دن کی تقاریر اور بحث کے باوجود کانفرنس کے شرکاء کو مشترکہ اعلامیہ تشکیل دینے میں انتہائی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایک موقع پر اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں بھی شکوک ظاہر کیئے جانے لگے۔
تقریباً تین گھنٹوں کی بند کمرے میں گفت و شنید اور پس پردہ کی جانے والے کوششوں کے بعد مرتب کیئے جانےوالے مشرکہ اعلامیہ پر مختلف جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے تضادات اس وقت سامنے آ گئے جب میاں نواز شریف اس کا متن شرکاء کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ اعلامیہ کی شق نمبر ایک پر متحدہ مجلس عمل کے رہنماء قاضی حسین احمد نے اعتراض کر دیا۔ اس میں مخلوط طریقہ انتخاب اور عورتوں اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشتوں کے علاوہ سترہویں ترمیم اور ایل ایف او کی باقی شقوں کو منسوخ کیا جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ایل ایف او اور سترہویں ترمیم میں شامل تمام شقوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائے اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کچھ کو قبول کرلینے اور کچھ کو رد کردینے سے اجتناب کیا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں شامل ڈاکٹر صفدر عباسی نے اس پر اپنی پارٹی کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے عورتوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشتوں اور مخلوط طریقے انتخاب سمیت سترہیوں ترمیم میں شامل تین شقوں کے حق میں ووٹ دیا تھا اور وہ اس پر قائم ہیں۔ مسلم لیگ کی طرف سے تجویز پیش کی گئی کہ اس پر موجود اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے اس پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایسی کسی کمیٹی میں شریک نہیں ہوں گے۔اس نکتے پر کسی اتفاق کے بغیر ہی میاں نواز شریف آگے بڑھ گئے اور اعلامیہ کی باقی قرار دادیں پڑھنا شروع کر دیں۔
کانفرنس کے اختتام پر مسلم لیگ کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ تمام جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد کو تشکیل دینے کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ اراکین کا بند کمرے میں اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیہ میں سیاست میں فوج کی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ تمام سویلین اداروں سے فوج کو فوری طور پر واپس بلایا جائے اور خفیہ ایجنسوں کے ’پولیٹکل سیل‘ ختم کیئے جائیں۔ کل جماعتی کانفرنس نے بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بلوچستان میں فوجی چھاونیوں کی تعمیر کو بند کیا جائے۔ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریش کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا اور ان علاقوں میں موجود بیرونی عناصر کو وہاں سے نکالنے کی بات بھی کی گئی۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بلوچستان میں سرکاری تنصیبات، پلوں اور کھمبوں کو بم سے اڑانے کے طرز عمل کی بھی مذمت ہونی چاہیے۔ مشترکہ اعلامیہ میں اسلام آباد میں چار ارب ڈالر سے تعمیر کیئے جانے والے نئے فوجی ہیڈ کواٹر (جی ایچ کیو) کی بھی مخالفت کی گئی اور اس پر کام کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی اور ان کے خلاف ریفرنس کو واپس لیئے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں ذرائع ابلاغ پر لگائی جانے والی حالیہ پابندیوں کے خلاف بات بھی کی گئی اور چار جون دو ہزار سات کو نافذ کیئے جانے والے پیمرا آرڈیننس کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ کی آخری قرار داد کشمیر کے بارے میں تھی جس میں مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس پر کشمیری نمائندوں کے اعتراض کے بعد یہ بات بھی شامل کی گئی کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل کیا جائے۔ قبل ازیں کانفرنس میں اسلام آباد سے خصوصی طور پر مدعو کیئے جانے والے مبصرین روئیداد خان اور ایاز امیر نے کہا کہ پاکستانی عوام اس وقت دو ٹوک فیصلہ کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لمبی چوڑی قرار داد ایک مذاق بن جائے گی۔ پاکستان کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی اکابرین کو صرف اور صرف ایک نکتے پر توجہ مرکوز رکھی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ جنرل مشرف کے فوجی اقتدار سے کس طرح جان چھڑائی جائے۔ | اسی بارے میں اے پی سی کے موقف پر فیصلہ آج07 July, 2007 | پاکستان اجتماعی استعفوں پر عمومی اتفاق07 July, 2007 | پاکستان وکلاء: اے پی سی لندن سے معذرت05 July, 2007 | پاکستان اے پی سی: سیاسی قیادت لندن میں06 July, 2007 | پاکستان لندن میں آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز07 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||