اے پی سی کے موقف پر فیصلہ آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے لندن میں بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شام کے اجلاس میں میاں نواز شریف نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے کہا ہے کہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں یا پھر متحدہ ہو کر الیکشن لڑیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تیس کے قریب سیاسی جماعتوں سے کہا کہ موجودہ حکومت سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی لہذا تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔ دریں اثناء لندن میں سنیچر کو شروع ہونے والی اس کانفرنس کے دوسرے روز کا پہلا سیشن ختم ہو چکا ہے۔ نواز شریف نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر متفق نہیں ہوتیں تو پھر تمام سیاسی جماعتیں متحدہ ہو کر ’ون آن ون‘ کی بنیاد پر حکومتی امیدواروں کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے بعد ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے جو آئندہ دو سے تین سال تک پاکستان کی سمت کا تعین کرئے۔
میاں نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر وہ آ جاتیں تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آ کر اگر وہ جمہوری قوتوں کا ساتھ دیتیں تو بہت اچھا ہوتا۔ پاکستان پیلپز پارٹی کے رہنماء مخدوم امین فہیم نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں جو بھی تجاویز سامنے آئی ہیں اُن پر پارٹی کی سطح پر غور کیا جائے گا۔ صدر مشرف کے انتخاب کے موقع پر مستعفی ہونے کے حوالے سے تجویز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’آپشن‘ یا راستہ ان کے سامنے موجود ہے اور وقت آنے پر اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ متحدہ اپوزیش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر وہ پہلے ہی متحدہ اپوزیشن کی طرح کام کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے متحدہ ہو کر الیکسن لڑنے کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے اصولی طور پر متفق ہیں لیکن اس کی عملی صورت طے کرنا باقی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ تجویز سنجیدگی سے آگے بڑھتی تو وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے خلاف بھرپور اتحاد بنانے کے لیے ضروری ہے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف وطن واپس جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل جانے سے سیاسی رہنماؤں کا وزن دگنا ہو جاتا ہے اور جیل جانے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کی وطن واپسی سے ملک کا سیاسی منظر یکسر تبدیل ہوجائے گا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ اگر وفاق کی اکائیوں کو مضبوط اور بااختیار کرنے کے لیے کوئی متحدہ اپوزیش بنائی جاتی ہے یا پھر متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے ’ون ٹو ون‘ الیکشن لڑتے ہیں تو پھر ان کی جماعت اس کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اتحاد چھوٹی پارٹیوں کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار حاصل کرنے کے مقصد سے بنایا جا رہا ہے تو پھر وہ اس کے مخالف ہیں۔ | اسی بارے میں ’جب سب متحد تو سیاستدان کیوں نہیں؟‘07 July, 2007 | پاکستان اجتماعی استعفوں پر عمومی اتفاق07 July, 2007 | پاکستان لندن میں آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز07 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||