BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالتی بحران، لندن کانفرنس ملتوی

نواز شریف اور بینظیر
کچھ عرصہ قبل نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جسے میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا
پاکستان مسلم لیگ نواز نے عدلیہ کے موجودہ بحران کے پیش نظر لندن میں حزب مخالف کی جماعتوں کی مجوزہ ’ آل پارٹیز کانفرنس‘ یعنی اے پی سی ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور معزول وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی دعوت پر اے پی سی چوبیس سے چھبیس مارچ کو لندن میں ہونا تھی۔ کانفرنس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔


مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے انہیں ہدایت کی ہے کہ یہ کانفرنس مؤخر کردی جائے، اس لیے اب وہ اس بارے میں تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو مطلع کر رہے ہیں۔

راجہ ظفرالحق کے مطابق میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے موجودہ بحران میں سیاسی قیادت کا ملک میں رہنا ضروری ہے۔ ان کے بقول کانفرنس کوملتوی کرنے کا مشورہ نواز شریف کو حزب مخالف کی جماعتوں کے قائدین نے دیا ہے۔

تیاریاں زوروں پر تھیں
 لندن میں اے پی سی کے انعقاد کے لیے تیاریاں زوروں پر تھیں اور مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا اور سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اس سلسلے میں لندن روانہ ہوچکے تھے
لندن میں اے پی سی کے انعقاد کے لیے تیاریاں زوروں پر تھیں اور مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا اور سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اس سلسلے میں لندن روانہ ہوچکے تھے۔

اس دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عملی معطلی کے بعد جنم لینے والے بحران کی وجہ سے اے پی سی کو ملتوی کرنے کی باتیں شروع ہوگئیں۔اسی حوالے سے سنیچر کو اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفتر میں حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک مشاورتی اجلاس بھی کیا گیا۔

اجلاس میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) اور مجلس عمل میں شامل جماعتوں سمیت حزب مخالف کی سولہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ پیپلز پارٹی عدم شرکت کی وجہ سے نمایاں تھی۔

اجلاس کے شرکاء میں مولانا فضل الرحمان، عمران خان، مولانا سمیع الحق اور اسفند یار ولی بھی شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے رکن ملک حاکمین خان اجلاس میں آئے تو تھے لیکن اپنے موبائل فون پر آنے والی ایک کال کے بعد اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

ملک حاکمین اور موبائل فون
 ملک حاکمین خان اجلاس میں آئے تو تھے لیکن اپنے موبائل فون پر آنے والی ایک کال کے بعد اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس اجلاس میں حزب مخالف کی جماعتوں نے اے پی سی کے حوالے سے جو تجاویز دیں وہ انہوں نے سنیچر کو ہی میاں نواز شریف کے گوش گزار کر دی تھیں۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پی پی پی کی سربراہ بینظیر بھٹو پہلے ہی اے پی سی میں شرکت سے معذوری کا اظہار کر چکی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اے پی سی لندن کی بجائے اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔

لیکن مسلم لیگ (ن) کو یہ منظور نہ تھا، کیونکہ اس صورت میں نواز شریف اس کانفرنس کی میزبانی نہ کر پاتے۔

بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
اپوزیشن کے دعوے
اپوزیشن جماعتوں کے وہ وعدے جو وفا نہ ہوئے
نواز شریف، بینظیربی بی نواز ملاقاتیں
اصولی پیمانوں سے ماپنے کا وقت نہیں آیا
 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
پارلیمنٹ بلڈنگحزب اختلاف کون؟
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، اصل حزب اختلاف
بے نظیر اور نواز شریفمفاہمت ہو گئی
مشرف کی فوجی حکومت کے تمام اقدامات مسترد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد