بینظیر مشرف ملاقات اور پاکستانی سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاعر نےکہا تھا: اورکھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں شاعر کے ذہن میں تو جانے کس کا نقشہ ہو، ان دنوں پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو پر یہ شعر ضرور صادق آتا ہے۔ عشق کی مانند سیاست میں دو کشتیوں کی سواری بھی زیادہ دیر نہیں چھپتی اور بالآخر یہی کچھ پاکستان میں’اعتدال پسندی‘ کے دو بڑے علمبرداروں کے ساتھ ہوا ہے اور تمام تردیدوں کے باوجود ابو ظہبی میں دونوں کی ملاقات کسی طور چھپائے نہ چھپی۔ بالفرض محال یہ مان بھی لیں کہ ملاقات نہ ہوئی تو بھی جنرل مشرف ہوں یا بینظیر، اب تک کے اپنے حلیفوں کو یہ بات باور نہیں کراپائیں گے اور کوئی سمجھوتہ نہ ہونےکی صورت میں بھی دونوں کے یہ ہمراہی تو ساتھ دینےسے تو رہے۔ دیکھا جائے تو یہ ملاقات وقت گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے جیسی محسوس ہوتی ہے۔ دونوں کے لیے شائد اس ملاقات کا وقت نو مارچ کو گزرچکا ہے۔ نو مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پہلے تک جنرل مشرف ملک میں سیاسی لحاظ سے نہایت مضبوط دکھائی دیتے تھے اور موجودہ اسمبلیوں سے ان کے انتخاب کی راہ میں بظاہر کوئی چیز حائل نہیں تھی۔
لیکن پھرجنرل مشرف اپنےمستقبل کو ہرشک و شبہےسےبالاتررکھنے کومطلوبہ حد تک فرمانبردار ایک چیف جسٹس کی تلاش میں ریفرنس دائر کرتے ہیں۔ نو مارچ تک سمجھوتہ جنرل مشرف سے زیادہ بینظیر بھٹو کی ضرورت تھا اور اسی لیےجنرل مشرف کی جانب سےکسی لچک کامظاہرہ بھی نہیں ہوا تھا۔ لیکن نومارچ کے بعد یہ سمجھوتہ جنرل مشرف کی بھی ایک بڑی ضرورت بن چکا تھا۔ نو مارچ سے انیس جولائی تک فریقین میں شائد گفتگو تو بہت رہی لیکن سمجھوتےکی بیل منڈھے یوں نہ چڑھی کہ ریفرنس پرچیف جسٹس کی غیرمتوقع جرات مندی سےپیداہونےوالی وکلاء کی تحریک نےجہاں دیدہ بینظیر پر بھی جنرل مشرف کی حاجت مندی آشکارکردی تھی اورایسےمیں نہ صرف ان کے مطالبات بڑھ گئے تھے بلکہ فریق مخالف کے مطالبات کا پاس بھی کم رہ گیا تھا۔ دونوں فریق انیس جولائی تک کوئی معاہدہ کرلیتے تو کرلیتے، اب ایسا کوئی سمجھوتہ دونوں کے لیے ناممکن نہیں تو اس سے کم بھی نہیں اور ابوظہبی کی تازہ ترین سیاسی مہم جوئی نے یہ بات واضح بھی کردی ہے۔
ساتھ ہی اب نوبت یہ بھی آگئی ہے کہ قائداعظم لیگ کے ارکان صاف صاف کہنے لگے ہیں کہ وہ جنرل مشرف کو یہ جانتے ہوئے کیسے دوسری مدت کے لیے منتخب کرادیں کہ وہ منتخب ہوتے ہی اسمبلییوں کی چھٹی کردیں گے اور انتخابات میں جنرل مشرف کی حمایت ان کو منتخب کرانے والے ارکان کے لیے عوام کے سامنےکسی گالی اور اسکینڈل سے کم نہیں ہوگی۔ ایسے میں جنرل مشرف کو بلاشبہ نئے سیاسی سہارے کی ضرورت ہے اور بینظیر کو بھی اقتدارکاہما اپنےسر پربٹھانے کےلیے جی ایچ کیو کی آشیرباد چاہیے تھی۔ لیکن بیس جولائی کے بعد تو صورتحال بالکل ہی بدل چکی ہے۔ اب جنرل مشرف صدارتی انتخاب کے لیے نہ تو قائداعظم لیگ کے کندھے کا سہارا لے سکتے ہیں نہ ہی شاید اب وہ کندھا انہیں بھرپور سہارا دے سکے۔ لیکن اب کیا ہو۔ خبریں یہ ہیں کہ ابوظہبی مذاکرات کی تان جنرل مشرف کی وردی پر آکر ٹوٹی کہ بینظیر انہیں باوردی صدر بنانے پر راضی نہیں اور جنرل مشرف وردی کو پہلے ہی اپنی کھال قرار دے چکے ہیں کہ جو اتاری نہیں جاسکتی۔ جنرل مشرف دوبارہ انتخاب سے پہلے وردی اتارنےکا خطرہ مول نہیں لے سکتے اور بینظیر بھٹو وردی میں انہیں منتخب کراکے نہ تو ترپ کے پتے سے محروم ہونا چاہتی ہیں نہ ہی اس کے عوامی اثرات کی ذلت کھلے بندوں اٹھانے پر تیار ہیں۔ تاہم اس ممکنہ سمجھوتے کی اور بھی مشکلات ہیں۔ قائداعظم مسلم لیگ کےبہت سےارکان اسمبلی ایسےہیں جن کےلیے بوجوہ پیپلز پارٹی کےساتھ شراکت ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی سیٹ سےاسمبلی کاٹکٹ ایک پارٹی ایک ہی کو دے سکتی ہے اور سیاسی مخالف کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ ملنے کی صورت میں ناراض رکن کا پڑاؤ مخالف پارٹی میں ہی ہونا ہے۔ پنجاب کی عددی اکثریت کے تناظر میں جنرل مشرف سے بینظیر کا کوئی بھی سمجھوتہ اگر سندھ میں نعمت ہوگا تو اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ یہی سمجھوتہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لیے گالی اور زحمت اور مخالفین کے لیے آسمانی انعام بن جائے۔ پنجاب میں یہ صورتحال نواز مسلم لیگ کے لیے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا بھی بن سکتی ہے۔ کوئی بھی ممکنہ سمجھوتہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں مولانا فضل الرحمٰن کی سودے بازی کی صلاحیت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا اور ان کے لیے صرف دو راستے چھوڑے گا۔ اولاً ، وہ بینظیر اور جنرل مشرف کی ہمراہی اختیار کریں۔ لیکن اس کا انتہائی غیرمعمولی منفی اثر صوبہ سرحد میں ان کے ووٹروں پر ہوگا۔ یہ فیصلہ مجلس عمل کی ان کی ساتھی جماعت اسلامی بھی قبول نہیں کرے گے اور اتحاد کے ثمرات سے زیادہ نفاق کے کانٹے تقسیم شدہ ووٹوں کی صورت میں مولانا کے حصے میں آئیں گے۔ سونے پر سہاگہ، اسفندیار ولی اور محمود اچکزئی کا تازہ اتحاد بلوچستان میں بھی ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ ایسے میں جنرل مشرف کی ہمراہی مولانا کے لیے تقریباً شجر ممنوعہ ہی ہوگی۔ دوم، وہ نواز مسلم لیگ کے ساتھ چلیں جائیں۔ یہ صورت یقیناً صوبۂ سرحد ، بلوچستان اورپنجاب میں پیپلزپارٹی کی مشکلات میں اضافےکا ہی باعث ہوگی۔ اور اس سب پر مستزاد ، سمجھوتے اور مذاکرات کی یہ ساری بیل منڈھے چڑھ گئی تو بھی سارے انتظام پر ’نوآزاد سپریم کورٹ‘ کا کوئی بھی آئینی فیصلہ لوہار کی چوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ اب ایسے میں کون ایسا سیاسی احمق ہوگا جو جنرل مشرف کی ڈولتی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے اپنا آپ داؤ پر لگائے۔ جنرل مشرف چاہےاب کتنی ہی لکیرپیٹیں، بینظیربھٹواتنی نادان دکھائی نہیں دیتیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر مشرف بات چیت بےنتیجہ ختم27 July, 2007 | پاکستان ملاقات پر مِلا جُلا عوامی ردِ عمل28 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||