BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی مبینہ ڈیل اور سندھ

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)
صدر مشرف اور بینظیر کے درمیان ملاقات کی اطلاعات ہیں
پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے درمیان ابوظہبی میں ملاقات اور مبینہ ڈیل کی اطلاعات کے بعد پارٹی کے گڑھ اور بینظیر بھٹو کے آبائی صوبے سندھ میں سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، تاہم اس مبینہ ڈیل کے بارے میں تذبذب باقی ہے۔

قوم پرست حلقے جو جنرل مشرف کے دور میں پی پی کے ساتھ اتحاد میں رہے، وہ اس مبینہ ڈیل کو منفی قرار دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر دانشور حلقے اس کو ایک اچھا آپشن گردانتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے لیڈر خوش اور سرگرم ضرور ہیں لیکن اس کا دفاع نہیں کر پا رہے ہیں۔

سندھ میں صورتحال کچھ یوں تھی کہ گزشتہ عام صوبائی انتخابات میں پیپلز پارٹی واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی لیکن مختلف پی پی مخالف گروپوں کو اکٹھا کر کے ایم کیو ایم کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی گئی تھی۔ عام تاثر یہ تھا کہ حکومت میں عملی طور پر ایم کیو ایم کی بالادستی تھی۔

سندھ حکومت سے نہ صرف صوبے کے لوگ بلکہ اتحادی گروپ بھی ناراض رہتے تھے۔ یوں صوبے کے لوگ سمجھتے تھے کہ سندھ کے عوام کو کچھ نہیں مل رہا ہے۔ نوکریوں کے مسئلے سے لیکر زمین کی ملکیت تک سندھ کے لوگ اپنے حقوق سے محروم رہے ہیں۔

نئی صورتحال
 پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان رابطوں اور ڈیل کی خبریں عرصہ دراز سے چل رہی تھی لیکن معطل چیف جسٹس کی بحالی کے عدالتی فیصلے، دہشت گردی کے واقعات اور نیٹو کی فوجوں کی سرحد پر موجودگی نے جنرل پرویز مشرف کی پوزیشن کمزور کردی

پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کی خبریں عرصہ دراز سے چل رہی تھی لیکن معطل چیف جسٹس کی بحالی کے عدالتی فیصلے، دہشت گردی کے واقعات اور نیٹو کی فوجوں کی سرحد پر موجودگی نے جنرل پرویز مشرف کی پوزیشن کمزور کردی۔

جنرل مشرف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی یا نواز لیگ سے اتحاد کریں یا پھر خود مارشل لا نافذ کریں یا ملکی معاملات اپنے کسی ساتھی کے حوالے کردیں۔ چوتھا راستہ ملک میں مذہبی بالادستی سے کسی حکومت کا قیام تھا، جو کہ ریٹائرڈ جنرل حمید گل کے فارمولے کے مطابق امریکہ کو انگیج رکھے۔

پہلا آپشن بینظیر بھٹو کا ہی بنتا تھا۔ اور بینظیر بھٹو نے بڑی دانشمندی سے جب حکومت کمزور تھی اس وقت اپنے مطالبات سامنے رکھے۔

ابھی مشرف بینظیر ملاقات اور ڈیل کی تفصیلات منظر عام پر آنا باقی ہیں اور ان پر عمل درآمد ہونا بھی باقی ہے۔ لیکن سندھ میں سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا۔ اس کا انداّہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے افراد واپسی کے لئے بالواسطہ اور براہ راست رابطے کر رہے ہیں۔

جنرل مشرف نے ایم کیو ایم کو مذاکرات میں لے جانا ضروری سمجھا

نئے منظر میں ایم کیو ایم موجود نظر آتی ہے۔ چند روز قبل لندن میں نواز شریف کی طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام پارٹیوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ایم کیو ایم سے کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ مگر پیپلز پارٹی نے دوسری پارٹیوں کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے اس موقف کو جمعہ کے روز ابوظہبی میں بینظیر مشرف ملاقات کے وقت بھی دیکھا جاسکتا تھا کیونکہ ایم کیو ایم سے وابستہ گورنر سندھ عشرت العباد صدر کے ہمراہ اس ملاقات میں موجود تھے۔

اس ملاقات میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ریاض بشیر اور رحمان ملک بھی تھے،جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے کوئی لیڈر موجود نہ تھا۔

مبصرین اس کا مطلب یہ نکال رہے ہیں کہ وفاق میں پیپلز پارٹی مشرف سے شرکت اقتدار کرے گی تو سندھ میں ایم کیو ایم سے شراکت کرے گی کیونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے بعد ایم کیو ایم ہی زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سمجھی جاتی ہے۔

بینظیر بھٹو کو جلاوطنی میں نو سال اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے بارہ سال ہو گئے۔ وہ پاکستان کی پاور پالیٹکس کو سمجھتی ہیں۔ انہیں اندازہ تھا کہ اس مرتبہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں نہیں آتی تو پارٹی میں شامل افراد بھاگ جائیں گےاور ان کی واپسی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ جائےگا۔

سندھ کے لوگ سمجھتے تھے کہ نوکریوں کے مسئلے سے لیکر زمین کی مالکی تک سندھ کے لوگ اپنے حقوق سے محروم ہیں

پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن ذوالفقار قادری جو اب کالم نگار بھی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک کی بڑی پارٹی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اصل فائدہ سندھ کو ہوگا کیونکہ سندھ اس پارٹی کا گڑھ ہے۔

اس ملاقات کی مخالفت کرنے والوں میں اکثریت پیپلز پارٹی کے مخالفین کی ہے۔ بقول بیرسٹر ضمیر گھمرو کے ’وہ لوگ چاہتے کہ سندھ کے لوگ یا تو انقلاب کی باتیں کرتے رہیں یا پھر اپوزیشن اور مزاحمت کی باتیں کرتے رہیں۔ اقتدار میں آنے کی بات ان کے منہ سے اچھی نہیں لگتی۔‘

سندھ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل میں اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ چاہتے ہیں کہ سندھ کی قیادت اقتدار کے قریب نہ آئے اور مزاحمت کی باتیں کر کےجی میں خوش ہوتی رہے۔ ان مبصرین کے مطابق ملک کے نوے فیصد وسائل سندھ کے ہیں، مقتدرہ حلقے چاہتے ہیں کہ وسائل سندھ کے ہوں لیکن حکمرانی ان کے پاس ہو۔

ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ انیس سو ستتر سے اب تک ہرصوبے اور جماعت نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی ہے۔ پشتنونوں نے ایم ایم اے کی شکل میں سترہویں ترمیم پر معاہدہ کیا، نواز شریف اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ کر کے راتو رات بیرون ملک چلے گئے اور اس سے قبل نواز شریف دور میں بلوچ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرکے حکومت میں شامل ہوئے۔

اس صورتحال پر ایک قوم پرست کارکن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ کیا پیپلز پارٹی اور سندھ نے اپوزیشن اور انقلاب کی سیاست کا ٹھیکہ لیا ہے کہ وہ اقتدار کے قریب نہ جائے؟‘

قوم پرست جماعتیں کالاباغ ڈیم اور گریٹر تھل کینال کی تعمیر اور پانی کے تنازعات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ رہی ہیں

ادھر سندھ میں یہ باتیں عام ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی مشرف کے ساتھ مذاکرات میں نہیں جاتی تو جنرل مشرف کی شہباز شریف کے ساتھ ملاقات متوقع تھی۔ اور اگر ایسا ہوتا تو سندھ ایک مرتبہ پھر اقتدار سے باہر ہوتا۔

تیسرا آپشن جو مشرف کے پاس تھا وہ یہ کہ خود یا ان کا کوئی ساتھی مارشل لاء لگا کر مذہبی حلقوں کے قریب حکومت بناتا۔ اس تبدیلی کے سندھ پر اچھے اثرات نہ پڑتے۔ اس صورتحال میں سندھ کسی طور پر بھی اقتدار کی تبدیلی پر اثر انداز نہیں ہو سکتا تھا۔

ڈیل کی سندھ میں اس طرح سے تشریح کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی بڑی پاٹی ہے اور حالات نے جنرل مشرف کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وہ صدارت بچانے کے لئے وردی چھوڑنے پر تیار ہیں۔

مشرف حکومت کے دوران سندھ کی قوم پرست جماعتیں کالاباغ ڈیم اور گریٹر تھل کینال کی تعمیر اور پانی کے تنازعات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ رہی ہیں۔ لیکن ایم کیو ایم کے معاملے پر یہ جماعتیں پیپلز پارٹی سے دور ہو گئی ہیں۔

 پیپلز پارٹی کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی جماعت اور جمہوریت کے لئےجدوجہد اور آمریت کے خلاف جدجہد کا ورثہ رکھنے والی جماعت ہے۔ اس لئے وہ جنرل مشرف کو وردی میں قبول نہیں کر سکتی

جی ایم سید کے پوتے اور حال ہی قائم ہونے والی جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی چوتھی مرتبہ چور دروازے سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جلال محمود شاہ گذشتہ انتخابات میں موجودہ وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کی سربراہی میں قائم ہونے والے سندھ ڈیموکریٹک الائنس میں شامل تھے اور حال ہی میں کوٹری کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں حکمران جماعت کے امیدوار کی مدد کر چکے ہیں۔ جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ’بینظیر نے تنہا ہو جانے والے مشرف کو سہارا دیا ہے۔‘

سندھ عوامی تحریک کے صدر رسول بخش پلیجو نے ڈیل کے بارے میں کہا کہ ’جیسے امریکہ کہےگا ویسا ہوگا۔ سندھ مسائل میں گھرا ہوا ہے اس کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔‘

سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا ہے کہ مشرف اپنے تمام اتحادی گنوا بیٹھا ہے۔ اور وہ اکیلا ہوگیا ہے۔ ایسے میں پی پی سمیت کسی بھی پارٹی کا اتحاد اس میں نئی سانس ڈال سکتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی مشرف کو وردی میں یا وردی کے بغیر قبول کرتی ہے تو یہ جہوریت کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

سندھ نیشنل فرنٹ کے جنرل سکریٹری گل محمد جکھرانی نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی نے ہمیشہ موقع پرستی کی سیاست کی ہے۔ بینظیر اور مشرف کے درمیان ایک عرصے سے مذاکرات چل رہے تھے۔‘

سندھ کی سیاست اور حالات پر نظر رکھنے والے سائیں لائق تھیبو کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے سندھ میں کوئی دودھ کی نہریں نہیں بہنے لگیں گی۔ بس اتنا ہے کہ لوگوں کو سانس لینے کی جگہ مل جائے گی۔‘

پیپلز پارٹی کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی جماعت اور جمہوریت کے لئےجدوجہد اور آمریت کے خلاف جدجہد کا ورثہ رکھنے والی جماعت ہے۔ اس لئے وہ جنرل مشرف کو وردی میں قبول نہیں کر سکتی۔ کیونکہ اس سے اس کی عوام میں ساکھ متاثر شدید متاثر ہوگی۔

شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
عوامی ردعملبینظیر مشرف ڈیل
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
بینظیر سے ’ڈیل‘
چودھری برادران کی مشکلات میں اضافہ
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
بینظیرہوئی یا نہیں ہوئی
مشرف بینظیر ڈیل پر متضاد حکومتی بیانات
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد