BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 05:44 GMT 10:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طلبہ نے چینیوں کو خوب مارا پیٹا‘

سب نے عورتوں کو بالوں سے کھینچ کر گاڑیوں میں ڈالنے کی تصدیق کی
اسلام آباد میں ایک چینی ہیلتھ کلینک کے خلاف لال مسجد کے طلبہ و طالبات کی کارروائی کے دوران عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چینیوں کی چیخ و پکار دور رور تک سنی جا سکتی تھی۔

ڈاکٹر جیانگ سٹاکیسٹ کا ٹئینز نامی یہ کلینک اسلام آباد کے مہنگے ایف ایٹ سیکٹر میں واقع ہے۔ اس پر لگے ایک بورڈ پر دیگر تفصیلات کے علاوہ ٹیانشی انٹرنیشنل پاکستان کو لمیٹڈ بھی لکھا ہوا ہے۔

اس مکان میں جمعہ کی رات کی کارروائی کے بعد اب کوئی نہیں۔ چینیوں کے پیچھے رہ جانے والے دو کتے اور چند کچھوے ہی گھوم پھر رہے ہیں۔ دو پولیس اہلکار تاہم ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع کافی تاخیر سے ملی۔

آس پاس کی آبادی سے رات کی کارروائی کے بارے میں دریافت کیا تو سب نے عورتوں کی چیخیں سننے اور انہیں بالوں سے کھینچ کر گاڑیوں میں ڈالنے کی تصدیق کی۔

اسی گلی میں کام کرنے والے ایک مزدور محمد رفیق نے بتایا کہ انہوں نے رات مار پیٹ دیکھی۔ ’مولویوں نے انہیں خوب کوٹاپا (مارا پیٹا) لگایا۔ ڈنڈوں سے مارا اور بالوں سے زور سے کھینچا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رات ساڑھے گیارہ بجے کی اس کارروائی میں اتنی چیخ و پکار تھی کہ وہ دوسری منزل پر سن کر نیچے آگئے تو دیکھا کہ حملہ آور غیر ملکی خواتین کو لیجا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیس کے قریب طلبہ تین گاڑیوں میں وہاں پہنچے۔ ’ان میں سفید بکل ماری (منہ لپیٹے ہوئے) عورتیں بھی ان کے ساتھ تھیں اور وہ سب سیدھے اندر مکان میں گھس گئے۔‘

پکڑے جانے والے تین مردوں کے بارے میں جب دریافت کیا تو محمد رفیق کا کہنا تھا کہ وہ یہاں ’چاپی‘ کے لیئے آیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر مرد یہاں آیا کرتے تھے جنہیں دیکھ کر وہ خاموش ہو جایا کرتے تھے۔ ’ہم پردیسی لوگ ہمیں کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کل رات جو دیکھا اس کا انہیں کافی دکھ ہوا۔ ’ہم انہیں منع کرنے کے لیئے جانے لگے لیکن پھر یہ سوچ کر رک گئے کہ کہیں ہمیں بھی نہ لے جائیں۔‘

قریبی مکان میں کام کرنے والے ایک اور شخص محبت خان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے مالک نے چیخیں سن کر اٹھایا اور کہا جا کر دیکھوں کیا ہو رہا ہے۔ ’میں جب وہاں پہنچا تو وہ جا چکے تھے۔‘

’ٹئینز‘ چین کی ایک بین القوامی کمپنی ہے جو صحت سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس کی بنیاد انیس سو پچانوے میں رکھی گئی تھی اور یہ اب نیسڈیک پر بھی لِسٹڈ ہے۔

اسی بارے میں
لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد