BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 21:41 GMT 02:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لال مسجد پر حملہ ہوا تو اعلانِ جنگ‘

لال مسجد
طالبان نے پہلی بار لال مسجد کی انتظامیہ کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر حاجی عمر نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسلام آباد میں واقع مساجد اور دینی مدارس کے خلاف حکومتی کارروائی بند نہیں کی گئی تو وہ حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کردیں گے۔

حاجی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور انہوں نے انہیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

حاجی عمر کے مطابق’حکومت نے ایک طرف ملک میں فحاشی اور عریانی کے اڈوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف مدارس اور مساجد کو منہدم کیا جا رہا ہے جسے کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقے میں سرگرم طالب کمانڈر نے پہلی بار حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سلسلے میں لال مسجد کی انتظامیہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

 حکومت نے ایک طرف ملک میں فحاشی اور عریانی کے اڈوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف مدارس اور مساجد کو منہدم کیا جا رہا ہے جسے کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حاجی عمر

اس سے قبل لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کا ملک کے تمام، خصوصاً صوبہ سرحد کے مدارس سے رابطہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مدارس نے اعلان کیا ہے کہ مسجد پر حملہ ان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں کوہستان، دیر اور بنوں جیسے علاقوں کے ان لوگوں کے بچے یہاں پڑھتے ہیں جو مسلح ہیں اور ان لوگوں واضح اعلان کیا ہے کہ وہ مسجد اور مدرسے پر حملے کو خود پر حملہ تصور ہوگا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں سات مساجد کی انہدام کے بعد حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے جواب میں جامعہ حفصہ کی نقاب پوش ڈنڈا بردار طالبات نے بچوں کی لائبریر ی پر قبضہ کر لیا تھا جو بدستور قائم ہے۔ لال مسجد کی انتظامیہ نے شریعت کورٹ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا اور اس دوران پولیس کے کئی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا گیا جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد