’پولیس اہلکاروں کو رہائی مل گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی لال مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے یرغمال بنائے جانے والے دو پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے۔ اس سے پہلے لال مسجد کے خطیب مولانا محمد عبدالعزیز نے جمعرات کو بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ خیرسگالی، شفقت اور محبت کی بنیاد پر ان پولیس والوں کی رہائی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے تاہم حکومت سے ان کا تنازعہ نفاذ شریعت کے بعد ہی ختم ہوگا۔ ’ہم نے تقریباً اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ ہمارے دل میں رحم ہے۔ ان کے رشتہ دار آتے رہے۔ تو ہم یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ اگر حکومت ہمارے ساتھیوں کو چھوڑتی ہے تو فبہا ورنہ ہم حکومت کی طرح ظالم نہیں بنیں گے۔ ایجنسیوں نے ہمارے ساتھی کافی عرصے سے اٹھا رکھے ہیں اور انہیں چھوڑ نہیں رہے لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘ پولیس کے اے ایس آئی اورنگزیب اور کانسٹیبل راجہ محمد جہانگیر ان چار پولیس اہلکاروں میں شامل تھے جنہیں گزشتہ جمعہ کو مسجد کے طلبہ نے یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے دو کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا تاہم مزید دو کو رہا نہیں کیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے بدلے مسجد انتظامیہ ایسے لاپتہ اور گرفتار طلبہ کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھی جن کی تعداد نو بتائی جاتی ہے۔ البتہ اس انٹرویو میں مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی رٹ چیلنج ہوتی رہے گی جب تک حکومت اللہ کی رٹ چیلنج کرتی رہے گی۔‘ انہوں نے کہا ’ہم نے ان سے بار بار کہا ہے کہ جب تک شریعت نافذ نہیں ہوگی، چوری، رشوت بدکاری کے اڈے قائم ہوں گے، سود ہوگا تو اللہ کی رٹ چیلنج ہوتی رہے گی۔ ایسے میں حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا ہمارے لیے سعادت ہوگی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جو طریقہ کار انہوں نے رٹ چیلنج کرنے کے لیے اپنایا ہے وہ مجبوری کا آخری درجہ ہے۔ ’حکومت کی رٹ کون چیلنج نہیں کر رہا۔ یہ وکلاء جو اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہیں، چیف جسٹس کراچی چلے گئے۔ اس ساری صورتحال کی وجہ اسلامی نظام کی عدم موجودگی ہے۔‘ پنچاب کے راجن پور علاقے سے تعلق رکھنے والے چھیالیس سالہ مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ رٹ کو چیلنج کرنے کی ذمہ داری سولہ کروڑ عوام کی نہیں بلکہ علماء کی ہے۔ ’ہم بھی کوئی قدم اٹھانے سے قبل استخارہ کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ چند راتیں قبل تو خون خرابے کا تقریباً انتظام ہوچکا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتے۔ ’جب بھی ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو ہم بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کو دعا کے لئے بٹھا دیتے ہیں کہ یا اللہ بہتری کی صورت کرنا۔‘ مولانا عبدالعزیز نے بتایا کہ ان کا ملک کے تمام، خصوصاً صوبہ سرحد کے مدارس سے رابطہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مدارس نے اعلان کیا ہے کہ مسجد پر حملہ ان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ’ان لوگوں نے خصوصاً صوبہ سرحد کے کوہستان، دیر، بنوں جیسے علاقوں کے جو مسلح افراد ہیں انہیں کے بچے زیادہ یہاں پڑھتے ہیں انہوں نے تو واضح اعلان کیا ہے کہ مسجد اور مدرسے پر حملہ ان پر حملہ ہوگا۔‘ مولانا عبدالعزیز حکومت کو درجنوں مقدمات میں مطلوب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیوی بچوں پر بھی مقدمات ہیں جن کی وجہ سے وہ چار برسوں سے مسجد سے باہر نہیں نکلے۔ | اسی بارے میں لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا20 May, 2007 | پاکستان مسجد کو جانے والے چالیس گرفتار20 May, 2007 | پاکستان راستے کھل گئے، طلباء مدرسے میں21 May, 2007 | پاکستان لال مسجد کشیدگی کا ایک دور21 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||