سڑک پر قبضہ، پانچ میں سے تین رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جامعہ فریدیہ کے طلباء نے پیر کی شام پولیس کے جن تین مزید اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ اب لال مسجد اور متعلقہ مدرسہ کی تحویل میں یرغمال پولیس اہلکاروں کی تعداد دو ہے۔ اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد کی انتظامیہ نے حکومت پر مزید پندرہ طلبہ کو اغوا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھیوں کی رہائی کے برعکس پولیس نے جامع فریدیہ کے سامنے سے پندرہ مزید طلبہ کو پیر کو اغوا کر لیا۔ مقامی انتظامیہ نے کل رات مسجد کو جانے والے تمام راستے بند کر دئیے تھے جنہیں تاہم آج صبح دوبارہ کھول دیئے گئے۔ قریبی پولیس سٹیشن پر تعینات اضافی نفری اور رینجرز کو بھی وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم مسجد کے طلبہ سامنے کی ایک سڑک پر اپنا قبضہ آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔ لال مسجد کے طلبہ نے گزشتہ جمعے کے روز چار پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے دو کو تو بعد میں رہا کر دیا گیا تاہم دو ابھی بھی طلبہ کے قبضے میں ہیں۔
مسجد کے پانچ طلبہ کی عدالت سے ضمانت پر آج متوقع رہائی کے بعد ان پولیس اہلکاروں کی رہائی کا امکان ہے۔ تاہم ان تازہ گرفتاریوں سے حالات دوبارہ کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے۔ مسجد انتظامیہ نے کل دو سو طلبہ کی گرفتاری کا دعوی کیا تھا تاہم حکام نے صرف چالیس کی تصدیق کی تھی۔ | اسی بارے میں لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا20 May, 2007 | پاکستان مسجد کو جانے والے چالیس گرفتار20 May, 2007 | پاکستان راستے کھل گئے، طلباء مدرسے میں21 May, 2007 | پاکستان لال مسجد کشیدگی کا ایک دور21 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||