BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 May, 2007, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سڑک پر قبضہ، پانچ میں سے تین رہا

رات بھر کی کشیدگی بظاہر ختم ہو گئی ہے
جامعہ فریدیہ کے طلباء نے پیر کی شام پولیس کے جن تین مزید اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ اب لال مسجد اور متعلقہ مدرسہ کی تحویل میں یرغمال پولیس اہلکاروں کی تعداد دو ہے۔

اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد کی انتظامیہ نے حکومت پر مزید پندرہ طلبہ کو اغوا کرنے کا الزام لگایا ہے۔

مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھیوں کی رہائی کے برعکس پولیس نے جامع فریدیہ کے سامنے سے پندرہ مزید طلبہ کو پیر کو اغوا کر لیا۔

مقامی انتظامیہ نے کل رات مسجد کو جانے والے تمام راستے بند کر دئیے تھے جنہیں تاہم آج صبح دوبارہ کھول دیئے گئے۔ قریبی پولیس سٹیشن پر تعینات اضافی نفری اور رینجرز کو بھی وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم مسجد کے طلبہ سامنے کی ایک سڑک پر اپنا قبضہ آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔

لال مسجد کے طلبہ نے گزشتہ جمعے کے روز چار پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے دو کو تو بعد میں رہا کر دیا گیا تاہم دو ابھی بھی طلبہ کے قبضے میں ہیں۔

اسلام آباد میں گزشتہ رات پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بعد مدرسے کے خلاف کارروائی کا امکان بڑھ گیا تھا

مسجد کے پانچ طلبہ کی عدالت سے ضمانت پر آج متوقع رہائی کے بعد ان پولیس اہلکاروں کی رہائی کا امکان ہے۔ تاہم ان تازہ گرفتاریوں سے حالات دوبارہ کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے۔

مسجد انتظامیہ نے کل دو سو طلبہ کی گرفتاری کا دعوی کیا تھا تاہم حکام نے صرف چالیس کی تصدیق کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد