ایمرجنسی کی افواہ، متضاد اشارے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کی شام سے اچانک پاکستانی پرائیویٹ ٹی وی چینلوں پر پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبریں نشر ہو رہی ہیں۔ ان خبروں کے بارے میں حکومتی حلقوں کی جانب سے متضاد اشارے دیے گئے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق بدھ کو جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی ہے جس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے موضوع پر بات چیت ہوئی تاہم حکومتی سطح پر اس میٹنگ کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر شیر افگن نیازی نے کہا کہ انہیں اطلاع نہیں کہ کوئی میٹنگ ہوئی۔انہوں نےکہا کہ حالات اتنے مخدوش نہیں کہ ایمرجنسی نافذ ہو۔ تاہم بدھ کی شام بی بی سی اردو سروس کی صحافی ماہ پارہ صفدر نے پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم سے پوچھا کہ ’کیا آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی امکان ہے؟‘ ان کا جواب تھا: ’پاسِبلیٹی ہے، امکانات ہیں کہ کسی بھی وقت لگ سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ نہ لگے۔ لیکن فی الحال کسی بھی قسم کے امکان کو آپ خارج از امکان نہیں کرسکتے۔‘ طارق عظیم کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد اور دیگر سرحدی علاقوں میں خودکش حملوں میں تیزی آئی ہے اور فوجی مارے گئے ہیں اور پاکستان کے قانون اور آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق معروف وکیل اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انہیں کسی صحافی نے اطلاع دی ہے کہ جنرل پرویز مشرف ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حکم نامے پر دستخط کر چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات طارق عظیم سے جب پوچھا گیا کہ انتخابات سے چند ماہ قبل ہی ایمرجنسی کے نفاذ کی بات کیوں ہو رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں اور دھماکوں میں اس طرح کی تیزی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور یہ ایک ’نئی پیش رفت ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہوں اور اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ایمرجنسی لگانے سے حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں تو آئین میں حکومت کو یہ حق حاصل ہے۔ بدھ کی شب حکومتی چینل پی ٹی وی پر دو ٹیکر چل رہے تھے، ایک مطابق حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبروں میں ’کوئی صداقت‘ نہیں ہے جبکہ دوسرے کے مطابق ترجمان نے بعد میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔ حال میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال قومی اور بین الاقوامی سرخیوں میں رہی ہے اور ان علاقوں میں کام کرنے والے چینی انجینیئرز طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں جلاوطن رہنما نواز شریف کے مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے جس میں یہ نقطہ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستانی قوانین کے تحت کوئی سزا ایسی نہیں جس کے تحت کسی شہری کو جلاوطن کردیا جائے۔ ادھر جنرل پرویز مشرف نے کابل میں جمعرات سے شروع ہونے والے سہ روزہ جرگے میں شرکت نہ کرنے کا غیرمتوقع فیصلہ کیا ہے۔ وہ جرگے کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنے والے تھے۔ صدر مشرف کے جرگہ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر امریکہ میں پاکستانی سفیر محمود علی درانی کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقے میں امن کے لیے پرعزم ہے اور کابل نہ جانے کے فیصلہ سے جرگے کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار نیئر شہزاد کے مطابق میڈیا میں یہ خبریں بھر گردش کر رہی ہیں کہ حکمران جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اپنے گھر پر پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں ملک میں ایمرجنسی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ ملک میں ابھی تک پانچ مرتبہ ایمرجنسی کا نفاذ ہوچکا ہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ ایمرجنسی کا نفاذ چوبیس اکتوبر انیس سو چون کو ہوا جبکہ آخری مرتبہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ چودہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||