عام انتخابات،خفیہ ایجنسیاں اور پولیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران مسلم لیگ نے آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنے ممکنہ امیدواروں کے ابتدائی انٹرویو خفیہ ایجنسی کے عہدیداروں اور پولیس افسران کی موجودگی میں کیے ہیں۔ پنجاب کے پینتیس میں سے تیس اضلاع کے انٹرویو مکمل ہوچکے ہیں۔یہ انٹرویو حکمران مسلم لیگ کے ضلعی اجلاسوں میں کیے گئے جو لاہور کے ایواِن وزیراعلٰی میں طلب کیے گئے تھے۔ مسلم لیگی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ناظمین اور مسلم لیگی عہدیداروں اور ٹکٹ کے خواہشمند اراکین کے ان اجلاسوں کی صدارت تو وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کی لیکن تقریباً ہراجلاس میں ایک وفاقی خفیہ ایجنسی کے صوبائی سربراہ، پنجاب پولیس یا اس کی سپیشل برانچ کے سربراہ، ضلعی پولیس افسر اور ضلعی رابطہ افسروں نے بھی شرکت کی۔ ان اجلاسوں میں بعض نشستوں سے حکمران مسلم لیگ کے حتمی امیدواروں کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں نےالزام عائد کیا ہے کہ ’مسلم لیگ کے امیدواروں کا فیصلہ اس پارٹی کی قیادت نہیں بلکہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اور سرکاری افسر کر رہے ہیں‘۔ مسلم لیگ لاہور کے صدر میاں منیر نے بھی ایوان وزیراعلٰی میں ہونے والےایک ایسے ہی اجلاس میں شرکت کی۔ جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ ضلع لاہور کے اجلاس میں انٹیلیجنس بیورو پنجاب کے سربراہ اور دوسری خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار کی موجودگی کا کیا جواز ہے تو انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف وہی نہیں تھے بلکہ ضلعی پولیس افسر اور ضلعی رابطہ افسر، ترقیاتی اداروں کے سربراہوں سمیت دیگر سرکاری افسروں بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسروں کی موجودگی بلا جواز نہیں تھی ان کے بقول چونکہ یہ اجلاس وزیر اعلٰی پنجاب کے زیر صدارت ہو رہے ہیں جو صوبے کے سربراہ بھی ہیں اس لیے ان افسروں کی موجودگی منطقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاسوں میں ہر ضلع کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں۔احکامات جاری کیے جاتے ہیں جن کے لیے سرکاری افسروں کی موجودگی ضروری ہے۔ تاہم مسلم لیگ پنجاب کے سنیئر نائب صدر میاں عبدالستار کا کہنا ہے کہ وہ بھی اسی اجلاس میں موجود تھے لیکن ان کاکہنا تھا کہ انہیں اس میٹنگ میں کوئی سرکاری افسر نظر نہیں آیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ قاف لیگ کے امیدواروں کے انٹرویو انٹیلجنس بیورو کے افسران لے رہے ہیں۔ اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب نے پورے صوبہ کی انتظامیہ اور پولیس کو مسلم لیگ قاف کی الیکشن مہم چلانے پر لگا رکھا ہے ان کے بقول ایک طرف ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے سرکاری خزانے کو لٹایا جارہا ہے اور مقامی لیڈروں کو ساتھ ملانے کے لیے پولیس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے ذریعے دھمکایا جارہاہے۔ انہوں نے حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والی رکن قومی اسمبلی فردوس عاشق اعوان کی مثال پیش کی جنہیں پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر سیالکوٹ پولیس نے ان کے بھائی، بھتیجوں، بہنوئی اور گھریلو ملازمین کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دو مقدمات درج کرلیے تھے۔ حکمران مسلم لیگ کے صوبائی عہدیدار میاں عبدالستار نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان اجلاسوں میں مسلم لیگ نے اپنے امیداوروں کو پرکھا ہے ،ان کے سیاسی قد کا اندازہ لگایا ہے لیکن الیکشن ٹکٹ کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمانی بورڈ بلائے جائیں گے جن کی سربراہی چودھری شجاعت حسین کریں گے۔ | اسی بارے میں ’انتخابات وقتِ مقررہ پر ہونگے‘18 July, 2007 | پاکستان ایم ایم اے، مسلم لیگ کا اتحاد11 July, 2007 | پاکستان ’آئندہ ایم کیوایم سے اتحاد نہیں‘08 July, 2007 | پاکستان شناختی کارڈ کیخلاف درخواست06 August, 2007 | پاکستان وردی کو خیرباد کہنا پڑے گا: بینظیر05 August, 2007 | پاکستان صدارتی انتخابات ، کئی سوال01 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||