BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 August, 2007, 18:25 GMT 23:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی کو خیرباد کہنا پڑے گا: بینظیر

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو نےسنیچر کی شام نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ فوجی صدر پرویز مشرف ہمیں وردی میں ہرگز قبول نہیں ہیں اور مذاکرات کے کسی بھی نتیجے سے پہلے انہیں وردی کو خیرباد کہنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب صدر مشرف صدارتی انتخابات کیلیے فارم بھریں گے تو عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف سے ابوظہبی میں مبینہ ملاقات کی رپورٹوں کے بعد پہلی بار دورۂ امریکہ پر سنیچر کی شام نیویارک میں بلائی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔

تاہم انہوں نے فوجی صدر پرویز مشرف سے ابوظہبی میں اپنی مبینہ ملاقات کی خبـروں کی تصدیق یا تردید کیے بغیر صحافیوں کے بار بار استفسار پر کہا کہ اگر ایوان صدر اس کی تردید نہیں کرتا وہ کیوں جنرل مشرف سے اپنی ملاقات کی تصدیق یا تردید کریں۔

انہوں نے مسلم لیگ نواز شریف کے رہمنا اور رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی کی رہائي کا خير مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر آصف علی زرداری کی آٹھ سالہ قید کے دوراں انہیں جس کرب اور پریشانی سے گزرنا پڑا تھا اس کی وجہ سے وہ مخدوم جاوید ہاشمی کے خاندان کی کیفیت و پریشانیاں سمجھ سکتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیویارک میں مقیم ان کے شوہر آصف علی زرداری کا آئندہ انتخابات میں حصہ لینا ان کی صحت پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وطن ضرور جائيں گي لیکن انہیں عدالتی فیصلے کا انتظار ہے اور وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ حکومت کی طرف سے انکے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا۔

بینظیر بھٹو نے جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم کی بطور پاکستان کے اٹارنی جنرل تقرری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ جسٹس قیوم جیسی ’شہرت رکھنے والے کو اٹارنی جنرل بنانے پر انہیں حیرت ہوئی ہے کیونکہ ان پر کرپشن سمیت سنگین نوعیت کے الزمات تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا عمل ایسے لوگوں کی اٹارنی جنرل کے طور پر تقرری غیر شفاف بن جاتا ہے۔

ایک صحافی کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی مجوزہ تعمیر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر کالا باغ ڈیم نہیں تعمیر ہوسکتا کیونکہ پاکستان کی تین صوبائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف قراردادیں منظور کی ہوئي ہیں۔

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو نہ تو ملاقات کی تردید کرتی ہیں اور نہ ہی تائید کرتی ہیں

پاکستان کے صوبہ سرحد کے قبائلی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ وہ پریس کے توسط سے قبائلی بہن بھائیوں سے اپیل کریں گی کہ وہ اپنی زندگیوں اور مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کی آزادی اور عزت سے زندگی گزارنے کے حق پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قدیر خان نے خود ہی ٹی وی پر اعتراف کیا ہے وہ نیوکلئر ٹیکنالوجی کی سمگلنگ کے جرم میں ملوث تھے۔ اب لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ملک کا مفاد و سالمیت نیوکلئر ٹیکنالوجی کی سمگلنگ میں نہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو سچ اور جھوٹ لکھنے کی آزادی جو ان کے پچھلے دور حکومت میں تھی وہ کبھی نہیں رہی اور صحافیوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف اور میری ذاتیات پر بھی جتنا لکھا ہے اتنا انہوں نے کبھی ضیاءالحق کی فوجی ڈکٹیٹر شپ کے بارے میں کھبی نہیں لکھا۔ تاہم انہوں نے اپنے دور حکومت میں گورنر کےخلاف رپورٹ چھاپنے پر پاکستان میں انگریزی ماہنامے ’نیوز لائين‘ کی مدیرہ رضیہ بھٹی کے گھر پر پولیس چھاپے اور بچوں کی جبری مشقت پر دستاویزی فلم کی تیاری میں مدد دینے پر صحافی ظفریاب احمد کی گرفتاری کو اکا دکا اور انفرادی واقعات قرار دیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دور حکومت میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات اور صحافیوں کے خلاف کارروائيوں پر پاکستانی عوام سے معافی نہیں مانگیں گي کیونکہ ان کے دور جکومت میں انسانی حقوق کی صورتحال، بقول انکے، بہتر رہی۔

انسانی حقوق کی صورتحال بہتر رہی
 بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ اپنے دور حکومت میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات اور صحافیوں کے خلاف کارروائيوں پر پاکستانی عوام سے معافی نہیں مانگیں گي کیونکہ ان کے دور جکومت میں انسانی حقوق کی صورتحال، بقول انکے، بہتر رہی

انہوں نے اپنے دور حکومت میں اپنے ناراض بھائي مرتضی بھٹو سمیت ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کرنے کیلیے کیا جانے والا پروپیگنڈہ قرارد یا۔

پاکستان کی جلا وطن سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب دینے کے قابل نہیں کہ وہ خود کو پاکستانی لبرلزم یا روشن خیالی کی علامت کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں تو کیا وہ پاکستان میں دو خواتین کی آپس میں شادی کرنے کی حمایت کرتی ہیں اور یہ بھی کہ اگر وہ پاکستان میں تسری بار برسرِاقتدار آئيں تو وہاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک کو کام کرنے کی اجازت دیں گي؟'

بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)’ڈیل‘ اور صوبہ سندھ
پیپلز پارٹی کا گڑھ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
عوامی ردعملبینظیر مشرف ڈیل
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
بینظیر سے ’ڈیل‘
چودھری برادران کی مشکلات میں اضافہ
آپریشن سائلنسڈیل کیوں نہ ہوئی؟
لال مسجد ڈیل کیسے اور کیوں ناکام ہوئی؟
بے نظیر اور صدر مشرفصدر مشرف، بے نظیر
ملاقات پر مِلا جُلا عوامی ردِ عمل
بینظیرڈیل کے مضمرات
بینظیر مشرف بات چیت اور پاکستانی سیاست
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد