صدارتی انتخابات ، کئی سوال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی اور عوامی حلقوں میں کافی عرصے سے یہ محسوس کیاجا رہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نےاگر وردی سمیت یاوردی بغیر آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو یہ ملک میں ایک نئی آئینی اور قانونی جنگ کا نقطہ آغاز ہو گا۔ سیاسی حلقوں کے ذہنوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کیا جنرل پرویز مشرف وردی یا بغیر وردی کے آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے، کیا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ اختلافات کے بعد وہ انتخاب میں حصہ لے بھی پائیں گے، اور کیا قانونی جنگ کی طوالت کی صورت میں صدارتی انتخاب وقتِ مقررہ پر منعقد ہوں گے ؟ اور اگر صدارتی انتخاب پندرہ اکتوبر سے پہلے نہ ہو سکے تو پھر آئندہ عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی اسمبلی میں صدارتی ٹولے کے پاس کیا دو تہائی اکثریت ہو گی کہ جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کے ذریعے سرکاری ملازمین پر ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک عملی سیاست میں حصہ نہ لینے پر پابندی سے مستثنیٰ قرار دے کر دوبارہ صدر بنایا جاسکے۔ تیس جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی متحدہ مجلس ِ عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں سیاسی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں اور اگر آئین میں ترمیم کے ذریعے ان کو دوبارہ صدر بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کو روکنے کے لیے مزاحمت کی جاۓ گی ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کو درپیش اور ان سے ملتے جلتے سوالات کے بارے میں حکومتی ارکان اور ان کے حواریوں کا یہی کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو پندرہ اکتوبر سے پہلے پہلے موجودہ اسمبلیوں ہی سے دوبارہ منتخب کر لیا جاۓ ۔ اس بارے میں وفاقی وزیر براۓ پارلیمانی امور شیر افگن نیازی نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف پندرہ نومبر تک وردی میں رہ سکتے ہیں لہٰذا اس تاریخ سے پہلے وہ دوبارہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں ۔ شیر افگن نیازی کا ماننا ہے کہ اگر صدارتی انتخاب کسی بھی وجہ سے پندرہ اکتوبر تک نہیں ہوئے تو پھر نئی اسمبلی بننے کے تیس دن کے اندر اندر صدارتی انتخاب کرانا ہوگا اور اس صورت میں انتخابی شیڈول کے اعلان سے پہلے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا لازمی ہوگا ۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ اگلا ڈیڑھ مہینہ صدارتی انتخاب کے حوالے سے نہایت اہم ہے انتخابی شیڈول جلد ہی متوقع ہے۔ جب حکومتی جماعت کے پاس جنرل مشرف کو دوبارہ صدر بنانے کے لیے موجودہ اسمبلیوں میں درکار ووٹ ہیں تو ایسے میں جنرل مشرف کیوں پاکستان پیپیلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو سے معاہدہ کرنا چاہ رہے ہیں۔
اس بارے میں وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشیدنے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ کہا گو کہ حکمران جماعت کے پاس صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے درکار ووٹ ہیں لیکن پھر بھی اس انتخاب کی نیک نامی اور ساکھ کے لیے اچھا ہوگا کہ ان کو دوسری ہم خیال جماعتوں کے ارکانِ پارلیمینٹ کے بھی ووٹ ملیں ۔ اس سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کو بھی تقویت ملے گی ۔ کچھ اس سے ملتی جلتی بات حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید نے بھی کی ۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو موجودہ اسمبلیوں ہی سے منتخب کرایا جائے گا اور فی الحال اس حوالے سے کوئی ’پلان بی‘ نہیں ہے۔ گو کہ صدارتی کیمپ کے مطابق اس وقت تمام توجہ اس بات پر ہے کہ صدر کو پندرہ اکتوبر سے پہلے دوبارہ منتخب کرا لیا جائے ۔ اگر کسی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا تو پھرصدر جنرل پرویز مشرف کے سامنے کونسے راستے بچ جاتے ہیں سیاسی مبصرین کے خیال میں صدر کے پاس دو ہی راستے رہ جائیں گے ، ایک ، اگلی اسمبلی سے آئینی ترمیم اور دوئم امن و عامہ کی بگڑتی صورتِحال سے نمٹنے کے لیے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ۔ | اسی بارے میں قرارداد: مشرف وردی سمیت صدر 23 March, 2006 | پاکستان صدر مشرف کے انٹرویو کے اہم حصے22 May, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان ’ہم شوکت عزیز نہیں بننا چاہتے‘31 July, 2007 | پاکستان پاکستان کی قیادت کون کرے؟26 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘20 July, 2007 | پاکستان امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||