 | | | قوم اس نقطے پر متفق ہے کہ فوج کو بیرکوں میں واپس جانا چاہیے |
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے انکار کے بعد حکومت نے بے نظیر بھٹو سے مذاکرات شروع کیے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ جنرل مشرف نے کئی مرتبہ ان سے بات چیت کی کوشش کی لیکن انہوں نے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ ’ہم شوکت عزیز نہیں بننا چاہتے۔‘ بی بی سی اردو سروس کے حسین عسکری کو انٹرویو دیتے ہوئے نواز شریف نے جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان رابطوں کوگٹھ جوڑ اور سازش قرار دیتے ہوئے کہا یہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جنرل مشرف سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ ’میں اس منطق کو نہیں مانتا کہ فوج کو سیاست سے نکالنے کے لیے اس کے ساتھ اقتدار میں شراکت کر لی جائے۔‘  | میں نہیں مانتا  میثاق جمہوریت میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جنرل مشرف سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ میں اس منطق کو نہیں مانتا کہ فوج کو سیاست سے نکالنے کے لیے اس کے ساتھ اقتدار میں شراکت کر لی جائے  نواز شریف |
نواز شریف نے کہا کہ آئین کے تحت فوج کو سیاست کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ’جمہوریت جدوجہد سے بحال ہوگی نا کہ چور دروازے سےمذاکرات کے ذریعے، اس میں مہینے لگ سکتے ہیں اور کئی سال بھی، لیکن قوموں کی زندگی میں ایسا وقت (جدوجہد کا) آ سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف پر وردی اتارنے کے لیے دباؤ پہلے سے ہی تھا اور یہ ڈکٹیٹر سے علیحدگی میں ملاقات کرنے سے بڑھنے کی بجائے کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف سے مذاکرات کرنے سے پہلے بے نظیر بھٹو نے اپوزیشن میں کسی کواعتماد میں نہیں لیا۔ نواز شریف نے کہا کہ جنرل مشرف کو عوام کو موڈ دیکھتے ہوئے خود ہی اقتدار سے علحیدہ ہو جانا چاہیے۔ ’قوم اس نقطے پر متفق ہے کہ فوج کو بیرکوں میں واپس جانا چاہیے۔‘ |