BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 18:32 GMT 23:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شناختی کارڈ کیخلاف درخواست

 انتخابی فہرستوں کی شرائط
درخواست کے مطابق وہ اپنے تحفظات عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہوکر بیان کرنا چاہتے ہیں
سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی سید جلال محمود شاہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جس کے تحت انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لیے شناختی کارڈ لازمی ہونے کی شرط کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیر کو ایک درخواست داخل کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی خودساختہ جلاوطن چئرپرسن بے نظیر بھٹو کی جانب سے داخل کردہ آئینی درخواست میں انہیں فریق بنایا جائے جس کے تحت انہوں نے آئندہ انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کی تیار کردہ تازہ کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کو چیلنج کیا ہے۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نئی انتخابی فہرستوں میں تین کروڑ اہل ووٹر غائب ہیں اور الیکشن کمیشن ووٹر لسٹوں میں ایسے شہریوں کا اندراج کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جن کے پاس نادرا کا شناختی کارڈ نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے 26 جولائی کو بے نظیر بھٹو کی درخواست کی سماعت کے موقع پر حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان لوگوں کو حق رائے دینے کا انتظام کرے جن کے پاس نادرا کا شناختی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ ”وہ صدر صاحب کو بتائے کہ شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔،،

 شناختی کارڈ لازمی ہونے کی شرط ختم کی گئی تو ملک میں مقیم بنگلہ دیش، بھارت، برما اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد اپنے ووٹوں کا اندراج کرانے میں کامیاب ہوجائے گی
جلال محمود شاہ

عدالت عظمی کے اس حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے یکم اگست کو انتخابی فہرستوں میں الیکشن سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لئے سمری تیار کرکے وزارت پارلیمانی امور کو بھجوائی تھی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ ووٹ کے اندراج کے لئے شناختی کارڈ سمیت کوئی بھی ایسی سرکاری دستاویز قابل قبول قرار دی جائے جو شہریت کے ثبوت کے لئے کافی ہو۔

جلال محمود شاہ نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ووٹ کے اندراج کے لئے شناختی کارڈ لازمی ہونے کی شرط ختم کی گئی تو ملک میں مقیم بنگلہ دیش، بھارت، برما اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد اپنے ووٹوں کا اندراج کرانے میں کامیاب ہوجائے گی اور اس طرح اس اقدام سے بوگس ووٹنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف ان کے کچھ تحفظات ہیں جو وہ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہوکر بیان کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ جلال محمود شاہ بزرگ سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کے پوتے ہیں اور گزشتہ سال انہوں نے ایک نئی قوم پرست پارٹی سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سے قبل وہ ایک جماعت سندھ ڈیموکریٹک الائنس میں شامل تھے جو گزشتہ عام انتخابات کے بعد موجودہ حکمران اتحاد میں شامل ہوئی تھی اور بعد میں مسلم لیگ (ق) میں ضم ہوگئی تھی۔

اسی بارے میں
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد