’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے حکومت کو پیرول پر رہائی کی درخواست نہیں دی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں اگر کوئی درخواست دونگا تو وہ صرف یہ ہوگی کہ ملک میں جمہوریت بحال کردیں‘۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم کیے گیے بغاوت کے ایک مقدمے میں سزا پانے کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید جاوید ہاشمی کو حکومتی دعوے کے مطابق سنیچر کو پیرول پر رہا کیا گیا ہے تاکہ ملتان میں ہونے والی اپنی بیٹی کی شادی میں شریک ہو سکیں۔ جاوید ہاشمی کے مطابق انہیں یہ کہہ کر جیل سے باہر لایا گیا کہ طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جانا ہے، لیکن بعد میں ایئرپورٹ لا کر زبردستی جہاز میں بٹھا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے شہباز شریف کو جماعت کی قیادت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جماعت کےقائم مقام صدر ہیں لیکن انہیں قید میں ڈال کر تنظیمی کام کرنے سے عملی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ’ہماری جماعت کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کو ملک بدر جبکہ قائم مقام صدر کو جیل میں بند کر کے کوشش کی گئی ہے کہ ہم سانس بھی نہ لے سکیں۔‘ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور 73 کے آئین کی بحالی کے حوالے سے ان کی جماعت کا مؤقف سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ جاوید ہاشمی نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہیں جو فوج کا نام استعمال کر کے اقتدار پر قابض ہیں۔ ’فوج کا کام حکومت کرنا نہیں ہے، ہم انہیں بیرکوں میں بھیج کر رہیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا۔ ’اس حوالے سے کسی نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا تو اسے ملک و قوم کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘ | اسی بارے میں ہاشمی: درخواست ضمانت خارج09 October, 2006 | پاکستان جاوید ہاشمی کوٹ لکھپت منتقل 03 April, 2005 | پاکستان جاوید ہاشمی: جنم جنم کے غدار؟ 13 February, 2005 | پاکستان ’ہاں! میں باغی ہوں‘10 February, 2005 | پاکستان جاوید ہاشمی اے آر ڈی کےمتفقہ امیدوار26 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||