جاوید ہاشمی: جنم جنم کے غدار؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقید رہنما جاوید ہاشمی کی کتاب’ہاں میں باغی ہوں‘ کی تقریب رونمائی میں پاکستانی حزب اختلاف کی بیشتر بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور یہ تقریب عملا اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی شکل اختیار کر گئی۔ مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے اس کتاب کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ اگر اپنے وطن کی مٹی سے محبت کرنا غداری ہے تو وہ (جاوید ہاشمی ) جنم جنم کے غدار ہیں۔اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ اس غدار ٹولے کے غدار ساتھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز حکومت کے خاتمے کے بعد جاوید ہاشمی سمیت انہوں نے سرکاری درباری سیاسی طوائف بننے کی بجائے جدوجہد کادشوار گزار راستہ اپنایا۔ تقریب کے میزبان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی سعد رفیق نےکہا کہ انہیں ان کے والد خواجہ رفیق کے بعد جاوید ہاشمی نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے خواجہ رفیق ستر کی دہائی میں قومی اتحاد کی تحریک کے دوران ہلاک کر دیے گئے تھے ان کے صاحبزادے نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی مرحلے پر انہیں اپنے والد کی طرح جمہوریت کے خاطر جان دینےسے اتفاق نہ ہوتا لیکن جاوید ہاشمی کو دیکھنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس ملک کو واقعی سر پھروں کی ضرورت ہے ۔
قائد حزب اختلاف اور چھ دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ جاوید ہاشمی نے پاکستان کے وفادار سپاہی ہونے کا ثبوت پیش کیا اور اگر اس کا نام بغاوت ہے تو پھر ہم سب باغی ہیں۔ اس تقریب میں کالا باغ ڈیم کی تعیمر کی بھی کھل کر مخالفت کی گئی کالا باغ ڈیم پر بحث کا آغاز عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بیگم نسیم ولی خان نے اپنی تقریر کے دوران کیا اور کہا کہ پنجاب کے کاندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پرویز مشرف ایک دو روز میں کالاباغ ڈیم کا اعلان کرنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ کالا باغ بنانے کا اعلان پاکستان کے مزید ٹکڑے کرنے کا اعلان ہے ۔ مسلم لیگ نواز کے چئیر مین راجہ ظفرالحق نے کہا کہ کالا باغ ڈیم جتنا بھی ضروری ہو لیکن پاکستان کی سالمیت کی قیمت پر کوئی ڈیم نہیں بننا چاہیے۔ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمدنے کہا کہ پانی کی تقسیم کا جو فارمولا طے ہوچکا ہے اسے مدنظر رکھا جائے انہوں نے کہا کہ وہ سترہویں ترمیم کو حکمرانوں کے منہ پر مارتے ہیں اور ان کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتےہیں ۔ جہانگیر بدر نے بھی کہا کہ جب کوئی جیل میں ہو اور حکومت سیاسی اور معاشی دباؤ ڈالے ہوئے تو ایسے میں کتاب لکھنا اور فلسفہ بیان کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جاوید ہاشمی کی کتاب ان کی اپنی تقدیرکا سفرہے اور ان کے اپنی بیٹی کو تحریر کردہ خطوط ادب کا نمونہ ہیں۔ سابق صدر رفیق تارڑ نے ان کی کتاب کے اقتباسات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ ان کے تحریر کردہ مندرجات ہی حکمرانوں کے خلاف فردجرم ہونگے۔ تقریب بار سیاسی نعروں سے گونجتی رہی اور سب سے زیادہ جو نعرہ لگایا گیا وہ تھا: ’ہاں میں باغی ہوں ‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||