BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 April, 2004, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی کی سزا غیرمتوقع نہیں

جاوید ہاشمی
مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر اور پارلیمانی رہنما جاوید ہاشمی کو راولپنڈی کی عدالت نے بغاوت کے الزام میں جو سزا دی ہے وہ غیرمتوقع نہیں اور سیاسی حلقے اسی فیصلہ کی توقع کررہے تھے۔

خود جاوید ہاشمی نے ایک بار اپنے مقدمہ کی سماعت کا بائکاٹ کیا لیکن بعد میں فیصلہ بدل دیا اور کہا کہ انہیں سزا دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے قائد نواز شریف نے انہیں سماعت میں حصہ لینے کو کہا ہے۔

جس طرح اڈیالہ جیل میں جاوید ہاشمی کے مقدمہ کی سماعت کی گئی ہے، جہاں صحافیوں کے عام داخلہ پر پابندی تھی اور عدالت کی اجازت سے مخصوص لوگ اس سماعت کو سن سکتے تھے، اس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلا اپنے شکوک کا اظہار کرچکی ہیں۔

جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو گرفتار کیا گیا جبکہ ان کی جس پریس کانفرنس کوبنیاد بنا کر ان پر مقدمہ درج کیا گیا تھا وہ انہوں نے اپنی گرفتاری سے نو دن پہلے کی تھی اور جس شخص خورشید احمد نے اس پریس کانفرنس کی بنیاد پر مقدمہ درج کرایا وہ صحافی نہیں ہے۔

جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) میں ایک جارحانہ طرز عمل کے رہنما سمجھے جاتے ہیں اور ان کا ماضی بھی احتجاجی تحریکیں چلانے میں گزرا ہے۔ بے نطیر بھٹو کے دور حکومت میں احتجاجی تحریک کے دروان میں پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائیں تھیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں وہ حزب اختلاف کی احتجاجی تحریکوں میں پیش پیش تھے اور ان کی شہرت بھٹو مخالف سیاستدان کی حیثیت سے ہوئی۔

جاوید ہاشمی پر بغاوت اور فوج کو اکسانے کا مقدمہ درج کرکے صدر جنرل پرویز مشرف نے واضح پیغام دیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کسی نرمی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور اپنے سیاسی اقتدار کے خلاف کسی بھی متحرک رہنما اور پارٹی سے سختی سے نپٹیں گے۔

اب جاوید ہاشمی کی سزا سے ایک بار پھر حزب اختلاف کو یہ پیغام مل گیا ہوگا کہ جنرل مشرف سے ٹکرانے کے صورت میں حکومت اس کے ساتھ کیا کرسکتی ہے اور کس حد تک جاسکتی ہے۔

جاوید ہاشمی کی سزا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے لئے بھی ایک پیغام پوشیدہ ہو ستکا ہے کہ اگر وہ اپنی جلاوطنی ختم کرکے ملک واپس آۓ تو ان کو بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی سماعت کا نتیجہ ان کی سزا اور قید کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت کا ارداہ کچھ بھی ہو لیکن جاوید ہاشمی کی سزا اور طویل قید کا ایک نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ مسلم لیگی حلقوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو اور وہ ایک زیادہ قد آور رہنما کے طور پر ابھریں۔

جاوید ہاشمی کا ملک کے اندر قید کاٹنا شریف خاندان کے رویے کے برعکس ہے جو ایک سال کی قید کے بعد حکومت سے معاہدہ کے تحت سعودی عرب جلا وطنی پر رضا مند ہوگۓ۔

یوں جاوید ہاشمی ملک کے اندر رہ کر فوجی حکومت کا مقابلہ کرکے، مسلم لیگ(ن) میں شریف خاندان کے بعد ایک بڑے رہنما کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔

اس سزا کا ایک نتیجہ تو بہرحال یہ نکل سکتا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرلے اور ملک کا سیاسی ماحول گرمی کےموسم میں اور گرم ہوجاۓ۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے جاوید ہاشمی کی سزا کے خلاف احتجاجی کیمپ لگانے اور مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن پچھلے پانچ سال سے اب تک یہ جماعت مشرف حکومت کے خلاف کوئی مؤثر احتجاج نہیں کرسکی ہے۔

دیکھنا یہ ہےکہ اب مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف کوئی زوردار احتجاج کرسکے گی یا نہیں اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو کیا شہباز شریف وطن واپسی کے ارادوں پر قائم رہ سکیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد