BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 February, 2005, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہاں! میں باغی ہوں‘

جاوید ہاشمی کی کتاب
جاوید ہاشمی کی کتاب کا سرورق
مسلم لیگ نواز کے مقید رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کی کتاب’ہاں ! میں باغی ہوں‘ شائع ہوگئی ہے۔ کتاب کی رونمائی کی تقریب تیرہ فروری کو لاہور میں ہوگی۔

حکومت کی جانب سے قائم کردہ بغاوت کے ایک مقدمے میں سزا کاٹنے والے جاوید ہاشمی کی یہ کتاب تیرہ ابواب اور چار سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔

کتاب میں انہوں نے اپنے اوپر دائر مقدمے اور جیل کے اندر خصوصی عدالت لگا کر ملنے والی سزا، جیل میں ہونے والے سلوک اور عدالت کے سامنے پیش کردہ اپنے تحریری بیان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

اسلام آباد کو ملک کا نیا دارالحکومت بنانے پر ایوب خان سے اختلاف رائے، ذوالفقار علی بھٹو کو آئیڈیل سمجھنے کے بعد ان سے گرما گرم بحث مباحثوں، سخت اختلافات اور جیل بھجوانے کے واقعات بھی کھل کر بیان کیے گئے ہیں۔

جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی میں کی گئی بعض تقاریر بھی اس کتاب میں شامل کی ہیں۔

طالبعلمی کے زمانے سے سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب میں ملکی سیاست میں اپنی منفرد شناخت پیدا کرنے کےاس سیاسی سفر کے قصے بھی لکھے ہیں جس کے دوران وہ کئی بار جیل بھی گئے۔

نواز شریف ، شیخ رشید احمد اور اعجازالحق کے ہمراہ کراچی میں ایک جلوس کے حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’جب فوجیوں نے آگے بڑھنے سے روکا اور بندوقوں کا رخ ہماری طرف کرلیا تو شیخ رشید نے شدید اصرار کے ساتھ نواز شریف سے کہا کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے‘۔

جاوید ہاشمی
جاوید ہاشمی نے کتاب میں اپنے سیاسی رفقاء کا ذکر کیا ہے

جاوید ہاشمی نے اعجاز الحق کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اس موقع پر انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ میں فوجی پس منظر رکھتا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ جب بھی فوجی اس طرح کی پوزیشن سنبھال لیں تو انہیں قتل کرنے کا آرڈر مل چکا ہوتا ہے۔‘ لیکن ان کے مطابق نواز شریف نہیں گھبرائے۔

میاں نواز شریف کے ساتھ اپنی شناسائی کے متعلق جاوید ہاشمی نے لکھا ہے کہ ’نوازشریف سے سن چھہتر میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے میرے ساتھ مل کر سیاست کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے نواز شریف سے کہا کہ میری سیاست حزب مخالف کی ہے لیکن وہ پھر بھی تیار ہوگئے۔

ہاشمی کے مطابق جب وہ سن اٹھہتر میں وفاقی وزیر بنے تو ان کی کوشش تھی کہ میاں نواز شریف صوبائی وزیر بنیں اور یہ کوشش کامیاب رہی۔

جاوید ہاشمی نے کتاب میں دورانِ وزارت ’ کمیشن‘ اور ’ کک بیکس‘ کی پیشکشوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے جہاں اپنے سیاسی رفقاء کا تذکرہ کیا ہے ، وہاں اپنے ملازمین کو بھی نہیں بھولے جو ان کے ساتھ مشکل اوقات میں بھی ساتھ رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد