خط بغاوت کیس کا فیصلہ آج متوقع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حزب اختلاف کے اتحاد برائے بحالئی جمہوریت کے صدر جاوید ہاشمی پر بغاوت کیس کی سماعت سوموار کو سنایا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف بغاوت کے اس مقدمے کی سماعت جیل میں سیشن جج اسلام آباد اسد رضا کر رہے تھے۔ جاوید ہاشمی پر یہ مقدمہ انتیس اکتوبر دو ہزار تین کو قائم کیا گیا تھا اور سماعت تقریباً گزشتہ تین ماہ سے جاری تھی۔ فریقین کے وکلاء اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔ ان پر اس مقدمے کا آغاز ایک خط سے ہوا تھا جو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا تھا جس کے بعد ان پر بغاوت اور فوج کو خون خرابے پر اکسانے سمیت پانچ الزامات پر مشتمل فردِ جرم عائد کی گئی۔ خط کے بارے میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ انہیں یہ خط مبینہ طور پر بعض فوجی افسروں نے لکھا۔ اس خط میں صدر جنرل مشرف کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی تھی۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ اگر جاوید ہاشمی پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں عمر قید کے سزا ہو سکتی ہے۔ معزول وزیراعظم نواز شریف کے بعد حزب اختلاف کے کسی سرکردہ رہنما کے خلاف بغاوت کا یہ پہلا مقدمہ ہے۔ پاکستان میں چار سال قبل فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد جنرل مشرف اقتدار میں آئے تھے اور نواز شریف کے خلاف ہائی جیکنگ اور دہشت گردی کے مقدمات قائم چلائے گئے تھے اور انہیں سزا بھی سنائی گئی تھی۔ جاوید ہاشمی سعودی عرب میں جلاوطن نواز شریف کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے قائم مقام سربراہ بھی ہیں۔ جاوید ہاشمی کے تقسیم کردہ مذکورہ خط میں صدر مشرف اور ان کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی تھی اور جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس خط سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ فوج میں صدر مشرف کی پالیسیوں کے بارے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
جاوید ہاشمی پر عائد کیے جانے الزامات میں کہا گیا ہے کہ ان کا پیش کردہ خط جعلی ہے اور انہوں نے اس خط کے ذریعے مسلح افواج کو خون خرابے پر اکسانے اور بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جاوید ہاشمی مقدمے کی سماعت کے دوران الزامات کے تردید کرتے رہے ہیں اور ان کے علاوہ اتحاد بحالئی جمہوریت نے بھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمہ کو انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||