BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 November, 2003, 19:19 GMT 00:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی کے ریمانڈ میں توسیع

 مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی
مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی اتحاد برائے بحالئی جمہوریت کے صدر بھی ہیں۔

اسلام آباد کی ایک عدالت نے پیر کو اتحاد برائے بحالئی جمہوریت کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کے عدالتی ریمانڈ میں چودہ روز کی توسیع کردی ہے۔

جاورد ہاشمی اپنی گرفتاری کے بعد پیر کو پہلی بار اپنے کسی وکیل سے کمرۂ عدالت میں ملاقات کی ہے۔

سول جج اور جوڈیشل میجسٹریٹ عامر سلیم رانا نے جاوید ہاشمی کو عید کے موقع پر ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی۔ جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو بغاوت کے الزم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پیر کو پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ صبح آٹھ بجے کے قریب اڈیالہ جیل سے اسلام آباد لایا گیا۔ انہیں سول اور جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد پہلے ہی موجود تھی۔

استغاثہ نے عدالت سے جاوید ہاشمی کے ریمانڈ میں آٹھ دسمبر تک توسیع کی درخواست کی تھی۔

وکیل صفائی حشمت علی حبیب نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے عدالت میں مکمل یا نامکمل چالان پیش نہیں کیا اس لیے قانونی طور پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ تین سو چوالیس کے تحت عدالت کے پاس ان کے مزید ریمانڈ کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے پاس صرف یہی ایک اختیار ہے کہ وہ انہیں بری کردے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں عدالت عالیہ کے متعدد مقدمات کے حوالے بھی دیے۔

ان دلائل کے بعد عدالت نے جاوید ہاشمی کے ریمانڈ میں آٹھ دسمبر تک توسیع کا فیصلہ کیا۔ تاہم جج نے جاوید ہاشمی کے وکیل کو اجازت دی کہ وہ ان سے کمرۂ عدالت میں ملاقات کرسکتے ہیں۔

وکیل صفائی وکیل حشمت حبیب نے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس پی) اور تین انسپکٹر اور متعدد دیگر اہلکاروں کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال کر جاوید ہاشمی سے دس منٹ تک ملاقات کی جو کسی وکیل کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔

وکیل صفائی وکیل حشمت حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کی کندھے اور کمر میں درد تھا۔ انہوں نے شیو بنائی ہوئی تھی اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس تھے اور ان کا حوصلہ بلند دکھائی دیتا تھا۔ وکیل نے بتایا کہ جاوید ہاشمی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ انہوں نے جاوید ہاشمی سے ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمے کے مندرجات پر بات کی۔ انہوں نے کہا جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ایک سو چوبیس اے، ایک سو نو، ایک سو اکتیس، چار سو اڑسٹھ، چار سو انہتر، چار سو اکہتر، پانچ سو اور پانچ سو پانچ اے کے تحت درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دفعات میں ایک سو چوبیس اے بغاوت اور ایک سو اکتیس کسی فوجی کو بغاوت پر اکسانے سے متعلق ہے۔

وکیل نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف خورشید نامی شخص نے ایف آئی آر میں جو الزامات لگائے ہیں ان کا ان دفعات سے کوئی تعلق نہیں۔

جب جاوید ہاشمی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ان سے ملنے کی کوشش کی اور پولیس کی گاڑی کے سامنے آگۓ لیکن پولیس کے حفاظتی پہرہ کے باعث وہ ان سے مل نہیں سکے۔ جاوید ہاشمی نے فتح کا نشان بنا کر ان کی زبردست نعرہ بازی کا جواب دیا۔

پیر کو پولیس کی بھاری نفری صبح ہی سے عدالت کے باہر تعینات تھی۔ منگل کو اسلام آباد کے ایک سیشن جج جاوید ہاشمی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی سماعت کریں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد