| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاوید ہاشمی کی گرفتاری پر ہنگامہ
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے خلاف قومی اسمبلی میں زبردست احتجاج کیا ہے۔ حزب اختلاف کے ارکان نے اسمبلی ہال کے اندر جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے خلاف بینر لہرائے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ جاوید ہاشمی کو گزشتہ ہفتے فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان سوموار کے روز اس بات کی مکمل تیاری کر کے آئے تھے کہ وہ قومی اسمبلی کی کارروائی کو نہیں چلنے دیں گے۔ نامہ نگار کے مطابق حزب اختلاف کے ارکان اپنے اس مقصد میں مکمل طور پر کامیاب رہے۔ سوموار کو جیسے ہی سپیکر نے اسمبلی کی کارروائی شروع کی حزب اختلاف کے تمام ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر سپیکر کی سیٹ کے اردگرد اکٹھے ہوگئے۔ جب سپیکر نے حزب اختلاف کے ارکان کی طرف سے جاوید ہاشمی کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم کرنے سے متعلق کی جانے والی درخواست کو نظرانداز کیا تو مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رکن نے اسمبلی کے قوائد کی کتاب کو پھاڑ کر سپیکر کی طرف پھینک دیا۔ چند دیگر ارکان اسمبلی نے ایک بینر نکالا اور اسے ہال کے اندر لہرا دیا۔ اس دوران انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ جب سپیکر نے ارکان اسمبلی کو، ان کے مطابق، غیر پارلیمانی رویے پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تو انہوں نے زیادہ شدت سے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی اپنی نشست پر بیٹھ کر اس نعرہ بازی کو دیکھتے رہے۔ لیکن جب چند حکومتی ارکان نے حزب اختلاف سے بینر چھیننے کی کوشش کی تو اسمبلی ہال میں ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ ایک دو وزراء نے گتھم گتھا ارکان میں بیچ بچاؤ کرائے اور حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والےارکان اسمبلی کو کھینچ کر واپس اپنی نشستوں تک لائے۔ حزب اختلاف نے نعرہ بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور صدر اور وزیر اعظم کے خلاف زبر دست نعرے لگائے۔ بعد میں ارکان اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے اور انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے سوموار کے روز اخبار نویسوں کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ ملکی قانون کے تحت درج کیا گیا ہے اور حزب اختلاف کے احتجاج کے باوجود اس کا فیصلہ صرف عدالتیں ہی کریں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||