ہاشمی: درخواست ضمانت خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نےمسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی سزا کی معطلی اور ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس محمد نواز عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپنے مختصر فیصلے میں درخواستیں خارج کرنے کا حکم سنایا۔ درخواستوں کی سماعت کے دوران سرکاری وکلاء کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس اس مقدمے کی سماعت کا محدود اختیار ہے اور اس کی سماعت کا اصل فورم ہائی کورٹ ہے اور وہیں اس کی قانون کے مطابق سماعت ہونی چاہیئے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے سزا کی معطلی کی درخواست خارج کی ہے اور اس سزا کو ہم نے ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا ہوا ہے اور اب ہم کوشش کریں گے کہ ہائی کورٹ میں اس درخواست کی سنوائی ہو اور فیصلہ دیا جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں یہ درخواست اس خیال کے تحت دائر کی گئی کہ کیونکہ مقدمے میں دستوری اور آئینی نکات شامل ہیں لیکن سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں موجودہ حالات میں غور کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ تاحال صرف زبانی فیصلہ سامنے آیا ہے اور وہ تحریری فیصلے کے سامنے آنے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کریں گے۔ جاوید ہاشمی کی صاحبزادی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے لیکن جمہوریت کی بالادستی کے لیئے ان کی جدو جہد جاری رہے گی۔ میمونہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ ایک جانب تو ملک میں جمہوریت کا راگ الاپا جا رہا ہے تو دوسری جانب ایک بے نام خط کو بنیاد بنا کر تین برس سے ایک اہم سیاسی رہنما کو پابندِ سلاسل رکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ محدوم جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر سن دو ہزار تین کو اسلام آباد کے پارلینمٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں اپریل سنہ دو ہزار چار میں سات مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تئیس سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں فوج کو بغاوت پر اکسانے اور فوج میں نفرت پھیلانے سے متعلق مقدمہ بغاوت میں سات برس قید کی سزا بھی شامل تھی۔ گرفتاری سے پہلے بیس اکتوبر دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے دعٰوی کیا تھا کہ انہیں فوج کے مونوگرام والے لیٹر پیڈ پر ’قومی قیادت کے نام‘ کے عنوان سے فوجی حکمرانوں کے خلاف ایک خط موصول ہوا ہے جس میں صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف اور ان کےساتھیوں پر ملک لوٹنے اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیئےگئے ہیں۔ |
اسی بارے میں جاوید ہاشمی کی عدالت میں پیشی27 January, 2005 | پاکستان ہاشمی کی پیشی کی درخواست مسترد27 August, 2004 | پاکستان ہاشمی کے کاغذات نامزدگی منظور26 August, 2004 | پاکستان ’میرے والد کو سزا انتقامی کارروائی ہے‘13 July, 2004 | پاکستان ہاشمی کی سزا پر امریکی تشویش14 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||