’میرے والد کو سزا انتقامی کارروائی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیل میں قید حزب اختلاف کے رہنما جاوید ہاشمی کی بیٹی نے اپنے والد پر عائد کیے گئے الزامات کو انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ میمونہ ہاشمی نے کہا کہ چونکہ ان کے والد نے سیاست میں صدر مشرف کے کردار کو چیلنج کیا تھا اس وجہ سے ان سے بدلہ لیا جا رہا ہے۔ یہ بیان انہوں نے لاہور کے ایک روزنامے کے دفتر میں بات چیت کے دوران جاری کیا۔ میمونہ کا کہنا ہے کہ انہیں امید نہیں ہے کہ ان کے والد کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ جاوید ہاشمی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ہیں اور انہوں نے بغاوت کے الزام میں دی گئی تئیس سال قید کی سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔ میمونہ ہاشمی بھی قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں ایک فرد واحد اپنی پسند اور ناپسند سے ملک کے لیے وزیر اعظم منتخب کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پارلیمان غیر موثر ہوگئی ہے اور ملک کی عدلیہ جنرل مشرف کے زیر اثر ہے۔ میمونہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں اپنے والد کی سزا کے خلاف اپیل اس لیے کی ہے تاکہ عدلیہ پر جنرل مشرف کے اثر کا پردہ چاک کیا جاسکے۔ جاوید ہاشمی پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے الزامات بھی ہیں تاہم ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ان کے خاندان کے اثاثوں میں گزشتہ ایک سو پچاس سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||