جاوید ہاشمی کوٹ لکھپت منتقل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے صدر اور مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی کو راولپنڈی سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ وہ اٹھارہ ماہ سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید تھے ان کے خلاف لاہور کی احتساب عدالت میں ناجائز اثاثوں کا ایک مقدمہ زیر سماعت ہے ۔ ناجائز اثاثوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران جاوید ہاشمی کو صبح آٹھ بجے کی پرواز سے لاہور لایا جاتا ہے اور سہ پہر تین بجے کی فلائٹ سے واپس راولپنڈی لے جایا جاتا ہے۔ سنیچر کو لاہور میں احتساب عدالت کی کارروائی کے بعد انہیں واپس بھجوانے کی بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا گیا ۔ ان کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی سمیت سب اس فیصلے سے لاعلم تھے اور انہیں اس کا علم اس وقت ہوا جب اڈیالہ جیل کے سپرینٹنڈنٹ نے انہیں فون کرکے کہا کہ وہ جاوید ہاشمی کا سامان لے جائیں۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کا اب کوئی مقدمہ راولپنڈی میں زیر سماعت نہیں تھا اور لاہور میں ان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں اور بار بار انہیں لاہور لانا اور پھر واپس لے جانا پڑتا تھا اس لیے انہیں لاہور ہی کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جاوید ہاشمی کوانتیس اکتوبر سن دو ہزار تین کو اسلام آباد کے پارلینمٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا اور گزشتہ سال اپریل میں بغاوت کے ایک مقدمہ میں مجموعی طور پر تئیس سال کی قید کی سزادی گئی تھی تب سے وہ اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||