ہاشمی: درخواست ضمانت مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس اختر شبیر نے اس کیس میں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا مگر بعد میں انہوں نے ایک مختصر حکم میں کہا کہ جاوید ہاشمی کی درخواست مسترد کی جاری ہے جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں بیان کی جائیں گی۔ جاوید ہاشمی کو گزشتہ سال اپریل میں بغاوت سمیت کئی الزامات کے تحت سات سال قید کی سزا سنائی گئ تھی۔انہوں نے اس سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور ساتھ ہی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جو آج مسترد کر دی گئ۔ جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے کی ساتویں شق پانچ سو پانچ اے جوکہ فوج کو بغاوت پر اکسانے اور فوج میں نفرت پھیلانے سے متعلق ہے کے تحت بھی سزا ہوئی تھی۔ جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ جاوید ہاشمی کو جو کہ قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں اپنے حلقے کی نمائندگی کرنے کے لئے ضمانت پر رہا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی گزشتہ دس ماہ سے جیل میں ہیں اور قانون کے مطابق وہ اپنی سزا کا کافی حصہ کاٹ چکے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے اپنی اسیری کے دوران ’ہاں میں باغی ہوں‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو گزشتہ ہفتے ہی منظر عام پر آئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||