BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2003, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاشمی: مقدمے کی سماعت جیل میں

جاوید ہاشمی
جاوید ہاشمی کو غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

ڈسٹرک اینڈ سیشن جج اسلام آباد اسد رضا نے منگل کو اعلان کیا کہ اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ اڈیالہ جیل میں چلایا جائے گا۔

اس فیصلے کی وجہ پچھلی سماعت پر مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں کی طرف سے کیے گئے احتجاج کو بنایا گیا ہے۔

جاوید ہاشمی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے اور وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جیل کی دیواروں کے پیچھے عدالت ’کھلی عدالت کے اصول‘ کے خلاف ہے اور جاوید ہاشمی کو انصاف سے محروم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ’شفاف عدالت کاروائی‘ کی نفی ہے اور اس سے ظاہر ہو گیا ہے کہ حکومت اپنے اثرورسوخ کے زور پر جاوید ہاشمی کے خلاف فیصلے لینے کی کوشش کری گی۔

مخدوم جاوید ہاشمی کو 29 اکتوبر کی رات ساڑھے دس بجے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بیس اکتوبر کو پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا۔

درخواست دہندہ خورشید احمد جس کے بارے میں کسی کو آج تک زیادہ معلومات نہیں ہیں،نے پولیس کو بتایا تھا کہ 20 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی دیکھنے گیا تو اس نے جاوید ہاشمی کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنا ، اس کانفرنس میں جاوید ہاشمی نے ایک بغیر دستخط شدہ خط بعنوان ’ قومی قیادت کے نام‘ کی کاپیاں تقسیم کیں۔

’اس خط میں جنرل پرویز مشرف صاحب ، حکومت پاکستان ، اور افواج پاکستان کے بارے میں مواد تحریر تھا، اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گی ہے ، اس خط کے ذریعے جاوید ہاشمی نے مسلح افواج کے اندر نفرت اور بد اندیشی پیدا کرنے کی کوشش کی ھے ، اور انہیں بغاوت پر اکسایا ہے ۔ جاوید ہاشمی نے غلط بیانی سے کام لیا، اور واقعہ کارگل کے بارے میں غلط بیانی کرتے ھوئے کارگل میں پاکستان کا نقصان انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی جنگوں سے زیادہ ہونے کی بات کی ہےاور یہ کہا ہے کہ بھارت نے کارگل کے معاملہ میں انکوئری کر کے بہت سے برگیڈیر اور جنرل نوکری سے فارغ کیے اس طرح جاوید ہاشمی نے افواج پاکستان کے خلاف نفرت اور بد اندیشی پیدا کی۔

جب منگل کو عدالت نے سماعت شروع کی تو حکومت کے وکیل نے عدالت کی توجہ چیف کمشنر اسلام آباد کے اس فیصلے کی طرف دلائی جس میں اس نے جاوید ہاشمی کے کیس کی سماعت کے لیے عدالت اب جیل میں لگائی جائے گی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ چیف کمشنر کو اسلام آباد میں وہ حیثیت حاصل ہے جو صوبوں میں گورنر کوہے اور گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت کے لیے جگہ کا تعین کر ئے۔

حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعہ نو کے تحت کسی بھی صوبے کا گورنر عدالت کے بیٹھنے کے بارے میں فیصلے کر سکے۔

جاوید ہاشمی کو عدالت میں پیش کیا گیا ، اس نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ھوئے کہا، کہ آج ملک کی تاریخ کا ایک تاریک دن ہے کیونکہ اسی دن سیاست میں جنریلوں کے کردار کی وجہ ملک کا ایک حصہ پاکستان سے علیحدہ ہو گیا تھا۔

وہ دن دور نہیں جب یہ جنرل بھی کٹھڑے میں کھڑے ہوں گے۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ عوام جانتی ہے کہ بغاوت کس نے کی ہے ، اور کہا کہ اس کی جہدوجہد جاری رہے گی۔

جاوید ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ اس کو عدالت کے فیصلے کے باوجود ابھی تک ابھی تک اے کلاس نہیں دی گئی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد