رفاقت علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اسلام آباد میں انصاف کی فراہمی پروگرام کے ایک سیمینار سے خطاب کیا |
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پچھلے چار مہینوں میں وکلاء کی تحریک نے ملک کو ایک نئی امید فراہم کی ہے اور اب یہ وقت ہے کہ ملک کی قسمت کو ’غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام‘ کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔ اسلام آباد میں انصاف کی فراہمی پروگرام کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ’آئیں ملک کی قسمت کو غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء اور سول سوسائٹی کی تحریک نےاس تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے کہ عوام آئین کی بالادستی کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔’پچھلے چار مہینوں نے پاکستان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے اور لوگوں نے ثابت کر دیا کہ وہ آئین کی بالادستی کے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں‘۔
 | جلد اور سستا انصاف کیوں نہ ملا  ماضی میں آئین کی پامالی کی وجہ سے دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی گراوٹ آئی اور عدالتی ادارے وہ ساکھ اور طاقت نہ حاصل کرسکے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو سستا اور جلد انصاف فراہم کر سکتے  چیف جسٹس |
چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں آئین کی پامالی کی وجہ سے دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی گراوٹ آئی اور عدالتی ادارے وہ ساکھ اور طاقت نہ حاصل کرسکے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو سستا اور جلد انصاف فراہم کر سکتے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کو بھولنا ہو گا لیکن ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔’ تاریخ کے اس فیصلہ کن مرحلہ پر نہ صرف ایک آئینی عہدیدار کو اس کے عہدے پر بحال کر دیا گیا بلکہ بہتر مستقبل کی امید کو بھی جگا دیا ہے‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھنا ہے جہاں سب کے لیے برابر کے مواقع ہوں، قانون کی حکمرانی ہو اور جہاں وہ آزادانہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کو سکیں‘۔ چیف جسٹس نے کہا ’آئیں، سپریم کورٹ کو لوگوں کی امید کی علامت بنائیں، آئیں، اس عدالت کو لوگوں کی آواز اور ان کے خوابوں کی تعبیر کی ایسی جگہ بنائیں جس کے لیے ان کے قائد اور عظیم قانون دان قائداعظم محمد علی جناح نے اس ملک کی بنیاد ڈالی تھی‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب حقیقتاً ایک تاریخی موقع ہے اور اس موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔’عوام عدلیہ اور وکلاء کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں مایوس نہیں کرنا چاہیے‘۔
 | آئین، سیاسی اور عدالتی ادارے  آئین ایک بہت ہی اہم دستاویز ہے اور مضبوط سیاسی اور عدالتی اداروے کسی بھی زندہ معاشرے کی نشانی ہوتے ہیں  چیف جسٹس افتخار محمد چودھری |
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آئین ایک بہت ہی اہم دستاویز ہے اور مضبوط سیاسی اور عدالتی اداروے کسی بھی زندہ معاشرے کی نشانی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بانیوں نے بھی اسی طرح مضبوط اداروں کا خواب دیکھا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان اداروں کو بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنا ہو گا۔جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان ان کا فرض ہے کہ وہ عدالتی اداروں کو اتنا مضبوط بنائیں کہ ان میں لوگوں کے جائز مطالبات پر کارروائی کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔ |