BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 July, 2007, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سپریم کورٹ امید کی علامت بنائیں‘

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اسلام آباد میں انصاف کی فراہمی پروگرام کے ایک سیمینار سے خطاب کیا
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پچھلے چار مہینوں میں وکلاء کی تحریک نے ملک کو ایک نئی امید فراہم کی ہے اور اب یہ وقت ہے کہ ملک کی قسمت کو ’غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام‘ کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔

اسلام آباد میں انصاف کی فراہمی پروگرام کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ’آئیں ملک کی قسمت کو غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء اور سول سوسائٹی کی تحریک نےاس تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے کہ عوام آئین کی بالادستی کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔’پچھلے چار مہینوں نے پاکستان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے اور لوگوں نے ثابت کر دیا کہ وہ آئین کی بالادستی کے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں‘۔

جلد اور سستا انصاف کیوں نہ ملا
 ماضی میں آئین کی پامالی کی وجہ سے دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی گراوٹ آئی اور عدالتی ادارے وہ ساکھ اور طاقت نہ حاصل کرسکے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو سستا اور جلد انصاف فراہم کر سکتے
چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں آئین کی پامالی کی وجہ سے دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی گراوٹ آئی اور عدالتی ادارے وہ ساکھ اور طاقت نہ حاصل کرسکے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو سستا اور جلد انصاف فراہم کر سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس کو بھولنا ہو گا لیکن ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔’ تاریخ کے اس فیصلہ کن مرحلہ پر نہ صرف ایک آئینی عہدیدار کو اس کے عہدے پر بحال کر دیا گیا بلکہ بہتر مستقبل کی امید کو بھی جگا دیا ہے‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھنا ہے جہاں سب کے لیے برابر کے مواقع ہوں، قانون کی حکمرانی ہو اور جہاں وہ آزادانہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کو سکیں‘۔

چیف جسٹس نے کہا ’آئیں، سپریم کورٹ کو لوگوں کی امید کی علامت بنائیں، آئیں، اس عدالت کو لوگوں کی آواز اور ان کے خوابوں کی تعبیر کی ایسی جگہ بنائیں جس کے لیے ان کے قائد اور عظیم قانون دان قائداعظم محمد علی جناح نے اس ملک کی بنیاد ڈالی تھی‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب حقیقتاً ایک تاریخی موقع ہے اور اس موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔’عوام عدلیہ اور وکلاء کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں مایوس نہیں کرنا چاہیے‘۔

آئین، سیاسی اور عدالتی ادارے
 آئین ایک بہت ہی اہم دستاویز ہے اور مضبوط سیاسی اور عدالتی اداروے کسی بھی زندہ معاشرے کی نشانی ہوتے ہیں
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آئین ایک بہت ہی اہم دستاویز ہے اور مضبوط سیاسی اور عدالتی اداروے کسی بھی زندہ معاشرے کی نشانی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بانیوں نے بھی اسی طرح مضبوط اداروں کا خواب دیکھا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان اداروں کو بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنا ہو گا۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان ان کا فرض ہے کہ وہ عدالتی اداروں کو اتنا مضبوط بنائیں کہ ان میں لوگوں کے جائز مطالبات پر کارروائی کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔

جسٹس افتخار’پیپلز چیف جسٹس‘
کیا بڑھی ہوئی عوامی توقعات سے انصاف ہوگا؟
جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
اٹھارہ اپریل سے بیس جولائی تک کب کیا ہوا
 اسلام آباد دھماکہوکلاء کا الزام
بم دھماکے کا نشانہ چیف جسٹس تھے
چیف جسٹسوکلاء میں جوش
چیف جسٹس کا دورۂ فیصل آباد، تصاویر میں
سفر فیصل آباد
چیف جسٹس کے قافلے کا بھرپور استقبال
فیصل آباد: تیاریاں
چیف جسٹس کے لیے وکلاء چشم براہ
حماد رضا کے والد سید امجد حسین حماد کا قتل کیوں ہوا
’چیف جسٹس کو میرے بیٹے پر بہت اعتماد تھا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد