BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھماکے کانشانہ چیف جسٹس تھے‘

 اسلام آباد دھماکہ
دھماکے کے مقام سے اشیاء اکٹھی کی جا رہی ہیں
پاکستانی وکلاء کے نمائندوں نے الزام لگایا ہے کہ منگل کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں چیف جسٹس کی آمد پر ہونے والا بم دھماکہ خود کش حملہ نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے چیف جسٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عزیز اکبر بیگ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک اور چیف جسٹس کے وکلاء حامد خان، علی احمد کرد اور طارق محمود نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے یہ دھماکہ وکلاء تحریک کو نقصان پہنچانے کے لیے کروایا ہے۔


وکلاء کے نمائندوں کا موقف تھا کہ خود کش حملے کی صورت میں متاثرہ افراد کے جسم کے اوپر والے حصوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ اس دھماکے میں لوگوں کے جسم کے نیچے والے حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی ہے کہ کسی خود کش حملہ آور نے ہجوم میں پہنچ کر خود کو اُڑا لیا ہو۔

وکلاء کے نمائندوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو پروگرام کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے تقریب میں پہنچنا تھا اور اسی وقت دھماکہ ہوا اور اسی کے ساتھ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

فوجی حکمرانی کا اختتام
 وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ نو مارچ سے شروع ہونے والی وکلاء تحریک میں اب کروڑوں لوگ شریک ہو چکے ہیں اور اس تحریک کا ہدف صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت اور ملک سے فوجی حکمرانی کا اختتام ہے
وکیل علی احمد کرد

وکلاء کے نمائندوں کا کہنا تھا حکومت نے وکلاء کی پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے اور وکلاء کو ڈرانے کی کوشش کی ہے لیکن وکلاء نے ’ کفن باندھے ہوئے ہیں‘ اور وہ اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے۔

وکلاء کے نمائندوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس بحال ہوگئے تو وکلاء کی تحریک کا طریقۂ کار تو بدل سکتا ہے لیکن تحریک جاری رہے گی۔

وکلاء نے کہا کہ حکومت نے منگل کو ہونے والے دھماکہ کو خود کش کہہ اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ نو مارچ سے شروع ہونے والی وکلاء تحریک میں اب کروڑوں لوگ شریک ہو چکے ہیں اور یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کا ہدف صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا خاتمہ اور ملک سے فوجی حکمرانی کا اختتام ہے۔

بم دھماکہرپورٹرزنے کیا دیکھا
’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘
عینی شاہدینعینی شاہدین
’وہ جھلس چکے تھے اور بھاگ رہے تھے‘
جسٹس ریلی کے راستے میں دھماکہاسلام آباد دھماکہ
جسٹس ریلی پنڈال سے کچھ ہی دور
اسی بارے میں
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک
14 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد