ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی بازگشت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں ہنگامی حالت کے ممکنہ نفاذ کی بازگشت جمعرات کو قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی جب حزب اختلاف اور حکومت سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان نے اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ تاہم ایوان میں موجودگی اور حزب اختلاف کے اصرار کے باوجود کسی وزیر نے ان خدشات کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔ ایک نکتۂ وضاحت پر قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ شب مختلف نجی ٹی وی چینلز پر ان کے حوالے سے یہ خبر چلتی رہی کہ ایمرجنسی کے نفاذ پر ان (سپیکر) سے بھی مشورہ کیا گیا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ وہ کل رات اس کھانے کی دعوت میں موجود تھے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہاں ہنگامی حالت کے نفاد کا فیصلہ کیا گیا، تاہم ان کی موجودگی میں کسی نے اس موضوع پر بات کی اور نہ ہی ان سے مشورہ لیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین بھی مختصر وقت کے لیے اسمبلی ہال میں آئے لیکن انہوں نے بھی اس موضوع پر ایوان کے اندر کوئی بات نہیں کی البتہ اجلاس میں شرکت کے بعد واپس جاتے ہوئے انہوں نے اخبار نویسوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سب افواہیں ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا کہ ملک میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مشاہد حسین نے کہا کہ کچھ نالائق لوگ صدر کو اس طرح کے مشورے دے رہے ہیں اور اسی طرح کے مشوروں نے پہلے بھی انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ جمعرات کو جب اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ ان خبروں کی جانب مبذول کروائی جو ملک میں ہنگامی حالت کے ممکنہ نفاذ سے متعلق تھیں۔ انہوں نے کہا کہ فرد واحد کے اقتدار کے تحفظ کے لیے سولہ کروڑ عوام کے حقوق سلب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ(ق) کی رکن مہناز رفیع نے کہا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کی روایت پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی مسلم لیگ کے دور کی ہیں جبکہ تاحال اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا لہذا ایک ایسے واقعے کے بارے میں جو ابھی رونما ہی نہیں ہوا، بحث کرکے ایوان کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور صدر جنرل مشرف سپریم کورٹ کے کردار کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا انتہائی اقدام اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط مشورہ ملک کو تباہی کی طرف لے جائے گا کیونکہ پاکستان ہنگامی حالت کے نفاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ان خبروں کی وضاحت کرے اور واضح اعلان کرے کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے شیر محمد بلوچ نے کہا کہ حکومت بنیادی انسانی حقوق سلب کر کے افسر شاہی کی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے۔
حکومت کے رکن ِاسمبلی فاروق میر نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ نہیں ہوئی لیکن اس بارے میں میڈیا اور چند وزراء نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز نے یہ خبر بغیر کسی تصدیق کے بار بار چلائی اور ایسے وزراء بھی بیانات جاری کرتے رہے جن کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان کے پاس کوئی اطلاع ہے۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پوری قوم نے ساری رات جاگ کر گزاری ہے اور جو سوئے وہ اس یقین کے ساتھ سوئے کہ صبح جاگنے پر ایمرجنسی ان کا استقبال کرے گی۔ ایم ایم اے کے فرید پراچہ نے کہا پوری قوم کو اضطراری کیفیت سے نکالنے کے لیے وزراء کو اس بارے میں بیان دینا چاہیے اور اگر وہ ایوان میں کوئی بیان جاری نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ کو حقیقت کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں مشورہ اتحادیوں کا تھا: درانی09 August, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی، بازارِ حصص میں مندی‘09 August, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کا نفاذ ممکن ہے: شوکت 06 May, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کی افواہ، متضاد اشارے08 August, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کا ذکر سرسری تھا: افگن07 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||