BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 August, 2007, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آگ کے بغیر خانۂ خیال دھویں سے نہیں بھرتا‘

ان سوالوں کا جواب اس وقت شاید صدر مشرف کے پاس بھی نہیں
مانا کہ ایک فوجی حکومت میں کسی وقت کچھ بھی ممکن ہوتا ہے لیکن پھر بھی ایمرجنسی کے نفاذ کا شوشہ آٹھ اور نو اگست کی درمیانی شب یکایک اتنی شدت کے ساتھ کیوں چھوڑا گیا؟

آٹھ اگست کی شام دفتر خارجہ نے ایک بیان کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ صدر مشرف ملک کے اندر اپنی مصروفیات کی وجہ سے افغانستان میں ہونے والے امن جرگے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

دفتر خارجہ کا یہ بیان حیران کن ضرور تھا کیونکہ افغانستان میں ہونے والا جرگہ تینوں حلیفوں یعنی پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل بتایا جا رہا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ ملکی صورتحال میں پچھلے چند دنوں میں ایسی کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آئی تھی جسے ایمرجنسی نافذ کرنے کا جواز بنایا جا سکے۔

دفتر خارجہ کے اس بیان کے بعد بھی ملک کی سیاسی زندگی میں کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آئی۔ لیکن پھر رات پڑتے ہی اچانک مقامی ٹی وی چینلز پر شور اٹھا کہ ملک میں ایمرجنسی لگنے والی ہے۔

 سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آگ لگے بغیر ہی خانۂ خیال دھویں سے بھر جائے لیکن یہ ممکن ہی نہیں کے اس دھویں کا کوئی سرچشمہ ہی نا ہو

وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے خود ان افواہوں کو یہ کہہ کر ہوا دی کہ ملکی اور بین الاقوامی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کسی وقت بھی ملک میں ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسا واقعی ایسا ہو رہا ہے لیکن ان کے مطابق ہر آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔

آٹھ اگست کی رات بارہ بجے تک تقریباً تمام مقامی چینلز کہہ رہے تھے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کسی وقت بھی متوقع ہے۔ ان چینلز کے مطابق چینی باشندوں کے خلاف حالیہ پر تشدد کاروائیاں اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سر زمین پر براہ راست کاروائی کو ممکنہ ایمرجنسی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کے ایک گھنٹے کے اندر اندر صورتحال ایک بار پھر پلٹا کھا چکی تھی۔ اب مقامی چینلز کا موقف تھا کہ ایمرجنسی لگانے کا اصولی فیصلہ تو کر لیا گیا ہے لیکن راتوں رات ایمرجنسی آرڈر آنے کا کوئی امکان نہیں۔

اگلا دن یعنی نو اگست بھی انہیں افواہوں کے ساتھ طلوع ہوا اور مختلف سرکاری اہلکاروں نے چند گھنٹے اس ابہام کو مزید طول دینے کے بعد آخرکار مان لیا کہ ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آگ لگے بغیر ہی خانۂ خیال دھویں سے بھر جائے لیکن یہ ممکن ہی نہیں کے اس دھویں کا کوئی سرچشمہ ہی نا ہو۔ اور اکثر اوقات اس سرچشمے کی کھوج آنے والے سیاسی حالات کی نشاندہی کر دیتی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی کی افواہ کیوں اور کیسے اُڑی؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افواہ سرکاری ذرائع سے شروع ہوئی۔ مقامی صحافیوں کے مطابق کئی وزراء اور حکومتی جماعت کے ارکان ایمرجنسی کے امکان کی آف دی ریکارڈ تصدیق کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔

اس معاملے پر ابہام کو ہوا دینے میں پاکستان ٹیلیوژن بھی پیش پیش تھا۔ تقریباً ساری رات پی ٹی وی پر یہ خبر چلتی رہی کہ سرکاری ترجمان نے ایمرجنسی کی اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ گویا سرکاری سطح پر عوام کو کہا جا رہا ہو کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

 اس معاملے پر ابہام کو ہوا دینے میں پاکستان ٹیلیوژن بھی پیش پیش تھا۔گویا سرکاری سطح پر عوام کو کہا جا رہا ہو کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

بدھ آٹھ اگست کی رات حکومتی جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے گھر بھی خوب گہما گہمی رہی جس نے ایمرجنسی کی قیاس آرائیوں کو اور بھی ہوا دی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے ان افواہوں کے زور پکڑنے کے ساتھ ہی کہہ دیا تھا کہ یہ سیاسی یتیموں کے واویلے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور آخرکار یہی بات درست نکلی جب وفاقی وزیر برائے اطلاعات نے نو اگست کو مقامی میڈیا سے کہا کہ چند سیاسی قوتوں کی خواہش کے باوجود صدر مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کہ یہ سیاسی قوتیں کون ہیں اور کیا چاہتی ہیں۔ چند ماہ پہلے صدر مشرف کو بھیجے گئے فوج کے ایک انٹیلیجنس ادارے کے تخمینے کے مطابق حکومتی جماعت کو آئیندہ انتخابات میں شدید مشکلات کا سامنا ہو گا اور یہ عین ممکن ہے کہ اس کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے۔

News image
 پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے ان افواہوں کے زور پکڑنے کے ساتھ ہی کہہ دیا تھا کہ یہ سیاسی یتیموں کے واویلے کے سوا کچھ بھی نہیں

یہ محض اتفاق نہیں کہ حکومتی جماعت کی جانب سے ایمرجنسی کے اشارے بھی پہلی دفعہ اسی تخمینے کے بعد سننے میں آئے۔ اس تخمینے سے پیدا ہونے والے اندیشوں نے صدر مشرف اور پی پی پی کی رہنما بینظیر بھٹو کی ملاقات کے بعد مزید زور پکڑا۔

اس وقت پاکستان بھر میں عام خیال یہی ہے کہ ایمرجنسی کی افواہیں حکمران جماعت کے چند رہنماؤں کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کی باقاعدہ لیکن ناکام کوششوں کا نتیجہ تھیں۔

اگر یہ درست ہے تو کیا اب یہ سمجھا جائے کہ سب اچھا ہے؟ شاید نہیں۔ سیاسی چالیں کسی حد تک جوئے کی طرح ہوتی ہیں۔ بیشک کامیابی کی صورت میں چالباز سکندر ہوتا ہے لیکن ناکامی کی بھی قیمت ہر حال ادا کرنی پڑتی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی افواہ بازی کی قیمت ان سوالوں کی شکل میں سامنے آئی ہے جو یہ سارا ڈرامہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا حکومتی جماعت واقعی خود کو اتنا کمزور سمجھتی ہے کہ وہ آنے والے انتخابات کا کھلے دل کے ساتھ سامنا کرنے کی بجائے ایمرجنسی کے سائے تلے پناہ چاہتی ہے؟

دوسرا یہ کہ کیا صدر مشرف حالات پر اپنی گرفت اس حد تک کھو چکے ہیں کے ان کے اپنے سیاسی حلیف جب چاہیں ملک میں انتہائی غیر یقینی کیفیت پیدا کر سکتے ہیں؟

تیسرا یہ کہ کیا حکومتی جماعت اندرونی خلفشار کا شکار ہے کہ اس کے چند وزراء ایمرجنسی کے حق میں نظر آتے ہیں جبکہ باقی اس کے مخالف؟

چوتھا اور شاید سب سے اہم سوال یہ کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو پچھلے چند مہینوں سے بے دریغ صدر مشرف کو ایک ایسے رستے پر دھکیل رہی ہیں جس پر چل کر انہیں ابھی تک سوائے تنقید اور شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

ان سوالوں کا جواب اس وقت شاید صدر مشرف کے پاس بھی نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں موجودہ افواہ بازی کی قیمت - یعنی ان تمام سوالوں کا جواب – یا تو انہیں خود یا ان کے سیاسی حلیفوں کو ہر حال میں ادا کرنی پڑے گی۔

صدر پرویز مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی، افواہیں
ایمرجنسی ہرگز نافذ نہیں کی جائے گی: مشرف
پاکستان الیکشنانتخابی ٹکٹ
مسلم لیگ (ق) اور خفیہ ایجنسیوں کا تعلق ؟
جنرل مشرف بینظیر بھٹوابوظہبی ملاقات
جنرل مشرف سے ملاقات پر بینظیر کیا کہتی ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف’با وردی انتخاب‘
وزیر قانون کے مطابق صدر با وردی رہیں گے
امریکہ کے بعد اِی یو
2007 انتخابات میں یورپی یونین کی دلچسپی
لال مسجد کا ’چھاپہ‘
’مسجد کے طلبہ نے چینیوں کو بہت مارا‘
ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد