BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی کا نفاذ ممکن ہے: شوکت

وزیراعظم شوکت عزیز
’آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کی پروویژن یا گنجائش موجود ہے‘
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وقت آنے پر ملک میں ایمر جنسی یا ہنگامی حالات کا نفاذ ممکن ہے۔

اتوار کو یہاں اپنی سرکاری رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کی پروویژن یا گنجائش موجود ہے کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جن میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے۔ یہ حالات پر منحصر ہوگا کہ ملک میں ایمرجنسی لگے گی یا نہیں‘۔

انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ ملک کے موجودہ حالات ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے سازگار ہیں یا نہیں۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اسلام آباد سے لاہور تک سفر کے بارے میں کہا کہ ’کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ عوامی ریفرنڈم ہے جبکہ اصل ریفرنڈم صدر جنرل پرویز مشرف کا نوکوٹ کے جلسۂ عام سے خطاب تھا جس میں لوگ دور دور سے آئے‘۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس آئین و قانون کے مطابق بھیجا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے اور وہی اس پر حتمی فیصلہ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ اور عدلیہ اہم ترین ادارے ہیں جن کا رتبہ اور وقار ہے اور حکومت نے ہمیشہ ان اداروں کی حمایت کی ہے اور کرتی رہے گی مگر کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اسی لیے ریفرنس بھیجا گیا ہے‘۔

کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں
 سپریم کورٹ اور عدلیہ اہم ترین ادارے ہیں جن کا رتبہ اور وقار ہے اور حکومت نے ہمیشہ ان اداروں کی حمایت کی ہے اور کرتی رہے گی مگر کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں

انہوں نے کہا کہ ’اس ریفرنس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا یا اس سے عوام کو تکلیف پہنچانا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ سیاسی معاملہ نہیں ہے اس لیے کسی کو اس سے سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے‘۔

چیف جسٹس کے لاہور کے سفر اور وہاں خطاب کے دوران سندھ اور ملک کے بعض دیگر حصوں میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی نشریات روکنے کے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ چینلز کی نشریات فنی خرابی کی بناء پر متاثر ہوئیں جو بعد میں بحال بھی ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک میں اس وقت 50 نجی چینلز کام کررہے ہیں حکومت آزادی صحافت کی قائل ہے مگر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی مفادات کو ترجیح دیں اور ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کریں‘۔

شوکت عزیز نے کہا کہ میڈیا کو رپورٹنگ میں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل رائل ٹی وی کی نشریات پانچ روز سے بند ہونے کی شکایت پر کہا کہ انہوں نے اس بارے میں پیمرا اور وزارت اطلاعات سے رپورٹ طلب کی ہے۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت حکمران مسلم لیگ 12 مئی کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ریلی نکالے گی جو شایان شان ہوگی۔

چینلز کی نشریات کیوں بند ہوئیں
 چیف جسٹس کے لاہور کے سفر اور وہاں خطاب کے دوران سندھ اور ملک کے بعض دیگر حصوں میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی نشریات روکنے کے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ چینلز کی نشریات فنی خرابی کی بناء پر متاثر ہوئیں جو بعد میں بحال بھی ہوگئیں

انہوں نے کہا کہ ریلی کی قیادت کون کریگا اس بارے میں فیصلہ جلد کیا جائیگا اور ریلی نکالنا اور جلسہ کرنا حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں کا حق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گی۔

پیر سے ملک بھر میں بجلی کی بچت کے لیے حکومت کے اعلان کردہ منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا پوری دنیا میں کیا جاتا ہے اور اس سے صنعت و تجارت کو نقصان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں شاپ ایکٹ پر عملدرآمد کرائے گی جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ میڈیکل سٹور ، ہسپتال، کلینک ، ریستوران اور بیکری وغیرہ کے سوا شام آٹھ بجے کے بعد تمام دکانیں اور بازار بند رکھے جائیں۔

اسی بارے میں
شوکت عزیز ایران کے دورے پر
22 February, 2005 | پاکستان
شوکت عزیز سعودی عرب روانہ
18 February, 2005 | پاکستان
شوکت عزیز کا بیان چھا گیا
29 January, 2005 | پاکستان
’شوکت عزیز اٹک گئے‘
22 August, 2004 | پاکستان
شوکت عزیز کون ہیں؟
19 August, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد