BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمرجنسی لگانے والا جنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘

News image
ملک بھر کی سکیورٹی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ صدر مشرف کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاسی کمزوریاں ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی ملک کو کسی غیر آئینی سمت دھکیل سکتی ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء بینظیر بھٹو بار بار کہہ رہی ہیں کہ اگر صدر مشرف اور ان کے بیچ مفاہمت نہ ہوئی تو ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لاء لگ سکتا ہے۔ اب تک یہی سمجھا جا رہا ہے کہ ایسی صورتحال میں نافذ کردہ ایمرجنسی یا مارشل لاء کا واحد مقصد صدر مشرف کے اگلے پانچ سالہ دور کو یقینی بنانا ہو گا۔

لیکن چار ستمبر کی صبح راولپنڈی میں ہونے والے دو دھماکوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں کی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ اس مفروضے کی بھی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ ملک بھر کی سکیورٹی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ صدر مشرف کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاسی کمزوریاں ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی ملک کو کسی غیر آئینی سمت دھکیل سکتی ہیں۔

چار ستمبر کے دھماکوں کی سب سے اہم بات اس میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی شناخت ہے۔ یہ کون لوگ تھے؟ تفتیشی حکام نے پہلے کہا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے سرکاری ملازمین ہیں۔ بعد میں بتایا گیا کہ ان کا تعلق وزارت دفاع سے ہے۔ لیکن اس دوران مقامی افراد کا کہنا تھا کہ جس بس پر حملہ ہوا وہ پاکستان کے ایک اہم فوجی انٹیلیجنس ادارے کے اہلکاروں کے استعمال میں تھی۔

ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ فوجی انٹیلیجنس کا کوئی ادارہ براہ راست خود کش حملوں کا نشانہ بنے اور اگر اس واقعے کو انتہا پسندی کے حالیہ واقعات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ایسی کارروائیوں کے پس پردہ عناصر کا پاکستان کے اہل اقتدار کے لیے پیغام صاف سنائی دیتا ہے۔

’ایک گولی بھی نہیں چلی‘
News image
 کیسے ممکن ہے کہ امریکی خلائی سیاروں اور جاسوس طیاروں کے زیرنظر وزیرستان میں اتنی بڑی تعداد میں طالبان دندناتے پھِر رہے ہیں لیکن ایک فوجی قافلے کو اپنے اوپر حملے سے پہلے اس بارے میں کچھ علم نہ ہو جبکہ وہ جدید ترین اسلحے اور مواصلاتی آلات سے بھی لیس ہوں اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حملے میں ایک گولی بھی نہیں چلی اور سو سے زائد اہلکار یرغمال بن گئے

ذرا چار ستمبر کے دھماکوں سے پہلے کی صورتحال پر نظر ڈالیں۔ وزیرستان میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجؤں میں جاری جنگ نے ایک نیا روپ دھارا ہے اور جہاں پہلے یہ توقع کی جاتی تھی کہ کوئی بھی غیر ریاستی قوت فوج کے سامنے زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی وہاں اب فوج کے افسر و جوان مذہبی جنگجوؤں کو دیکھتے ہی ہتھیار ڈالنے لگے ہیں۔

قبائلی علاقوں کے حالات میں اس قدر بنیادی تبدیلی کو فوج کے اندر کس شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے اس کا اندازہ کرنا فوج سے باہر بیٹھے مبصرین کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن کیونکہ آج کل فوج ملک بھر میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہے اس لیے فوج کے اندر ہونے والی چہ میگوئیاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

مثلاً پچھلے چھ دن سے جنوبی وزیرستان میں سو سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کے اغواء پر فوج کے اندر ہر سطح پر مسلسل بحث جاری ہے۔ فوجیوں کی بنیادی ٹریننگ کے دوران یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی پر حملہ آور ہونا چاہیں تو اس کے مقابلے میں آپ کی تعداد کم از کم پانچ سے چھ گنا ہونا ضروری ہے۔ یعنی سو لوگوں کو غیر مسلح کرکے زیر حراست لینے کے لیے کم از کم پانچ سے چھ سو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ سو سے زائد فوجیوں کو اغواء کر کے یرغمال بنانے والے طالبان جنگجوؤں کی تعداد کم از کم پانچ یا چھ سو تو ضرور ہو گی۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکی خلائی سیاروں اور جاسوس طیاروں کے
زیرنظر وزیرستان میں اتنی بڑی تعداد میں طالبان دندناتے پِھر رہے ہیں لیکن ایک فوجی قافلے کو اپنے اوپر حملے سے پہلے اس بارے میں کچھ علم نہ ہو جبکہ وہ جدید ترین اسلحے اور مواصلاتی آلات سے بھی لیس ہوں اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حملے میں ایک گولی بھی نہیں چلی اور سو سے زائد اہلکار یرغمال بن گئے۔

News image
 پاکستان کی بری طرح سے بھڑکی ہوئی سیاست میں اگر کوئی نیا جنرل آ ٹپکا تو نہ تو اس کے کندھوں پر صدر مشرف کے ماضی کا بوجھ ہوگا اور نہ ہی وہ ان کے کیے گئے وعدوں کا پابند ہو گا۔ ایسی صورتحال بینظیر بھٹو ہی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی سیاسی رہنما کی سیاسی موت ثابت ہو سکتی ہے
شاید اسی لیے فوج کے اندر یہ رائے زور پکڑتی جا رہی ہے کہ یرغمالی سکیورٹی اہلکاروں نے لڑنے کی بجائے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دی اور فوج کے اندر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو ہر سطح پر فوجی قیادت کی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔

اس مسئلے پر طالبان جنگجوؤں اور حکومت میں ہونے والے مذاکرات نے بھی فوج کے اندر اندیشوں کو ہوا دی ہے۔ فوجی ذہنیت میں مذاکرات سیاسی میدان کا کھیل ہوتے ہیں میدان جنگ کا نہیں۔ لیکن ابھی بھی سو سے زائد اہلکاروں کی بازیابی کے لیے قبائلی جرگے کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر مشرف کا دور بطور آرمی چیف بھی اختتام پذیر ہے۔

قصہ مختصر، یہ تمام حالات آج کل کے سیاسی ماحول میں صدر مشرف کی بطور ایک فوجی رہنماء ناکامی کا ثبوت بنتے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں یقینا یہ رائے موجود ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جن سے ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز بنے لیکن اگر ایسا نہیں تو ان حالات میں صدر مشرف کی مزید کمزوری نا صرف ان کے انتہا پسند مخالفین کو بلکہ ان کے بارے میں ان کے اپنے ادارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو ہوا دے سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے والا جنرل ضروری نہیں صدر مشرف ہی ہوں۔

پاکستان کی بری طرح سے بھڑکی ہوئی سیاست میں اگر کوئی نیا جنرل آ ٹپکا تو نہ تو اس کے کندھوں پر صدر مشرف کے ماضی کا بوجھ ہوگا اور نہ ہی وہ ان کے کیے گئے وعدوں کا پابند ہو گا۔ ایسی صورتحال بینظیر بھٹو ہی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی سیاسی رہنما کی سیاسی موت ثابت ہو سکتی ہے۔ شاید اسی لیے پی پی پی کی رہنما اس بات پر مکمل طور پر قائل نظر آتی ہیں کہ صدر مشرف سے مفاہمت میں ناکامی کی صورت میں ملک ایک بار پھر مارشل لاء کی شیطانیت کا شکار ہو سکتا ہے۔

انتخاباتغیرجماعتی انتخاب
یہ آمرانہ تدبیر ہے یا تقدیر: عامر احمد خان
احتجاج’خواہش کی قبر‘
صدارت محفوظ، سیاسی عزائم کا پتہ نہیں؟
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو ’دو،تین ہفتے رہ گئے‘
’صدر مشرف کے ہاتھ سےوقت نکل رہا ہے‘
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
 بینظیر بھٹو’کوئی مقابلہ نہیں‘
نواز شریف اور میرا ایک ہی راستہ ہے: بینظیر بھٹو
اسی بارے میں
فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی
03 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد