’ایمرجنسی لگانے والا جنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیکن چار ستمبر کی صبح راولپنڈی میں ہونے والے دو دھماکوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں کی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ اس مفروضے کی بھی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ ملک بھر کی سکیورٹی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ صدر مشرف کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاسی کمزوریاں ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی ملک کو کسی غیر آئینی سمت دھکیل سکتی ہیں۔ چار ستمبر کے دھماکوں کی سب سے اہم بات اس میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی شناخت ہے۔ یہ کون لوگ تھے؟ تفتیشی حکام نے پہلے کہا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے سرکاری ملازمین ہیں۔ بعد میں بتایا گیا کہ ان کا تعلق وزارت دفاع سے ہے۔ لیکن اس دوران مقامی افراد کا کہنا تھا کہ جس بس پر حملہ ہوا وہ پاکستان کے ایک اہم فوجی انٹیلیجنس ادارے کے اہلکاروں کے استعمال میں تھی۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ فوجی انٹیلیجنس کا کوئی ادارہ براہ راست خود کش حملوں کا نشانہ بنے اور اگر اس واقعے کو انتہا پسندی کے حالیہ واقعات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ایسی کارروائیوں کے پس پردہ عناصر کا پاکستان کے اہل اقتدار کے لیے پیغام صاف سنائی دیتا ہے۔
ذرا چار ستمبر کے دھماکوں سے پہلے کی صورتحال پر نظر ڈالیں۔ وزیرستان میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجؤں میں جاری جنگ نے ایک نیا روپ دھارا ہے اور جہاں پہلے یہ توقع کی جاتی تھی کہ کوئی بھی غیر ریاستی قوت فوج کے سامنے زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی وہاں اب فوج کے افسر و جوان مذہبی جنگجوؤں کو دیکھتے ہی ہتھیار ڈالنے لگے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے حالات میں اس قدر بنیادی تبدیلی کو فوج کے اندر کس شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے اس کا اندازہ کرنا فوج سے باہر بیٹھے مبصرین کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن کیونکہ آج کل فوج ملک بھر میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہے اس لیے فوج کے اندر ہونے والی چہ میگوئیاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مثلاً پچھلے چھ دن سے جنوبی وزیرستان میں سو سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کے اغواء پر فوج کے اندر ہر سطح پر مسلسل بحث جاری ہے۔ فوجیوں کی بنیادی ٹریننگ کے دوران یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی پر حملہ آور ہونا چاہیں تو اس کے مقابلے میں آپ کی تعداد کم از کم پانچ سے چھ گنا ہونا ضروری ہے۔ یعنی سو لوگوں کو غیر مسلح کرکے زیر حراست لینے کے لیے کم از کم پانچ سے چھ سو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سو سے زائد فوجیوں کو اغواء کر کے یرغمال بنانے والے طالبان جنگجوؤں کی تعداد کم از کم پانچ یا چھ سو تو ضرور ہو گی۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکی خلائی سیاروں اور جاسوس طیاروں کے
اس مسئلے پر طالبان جنگجوؤں اور حکومت میں ہونے والے مذاکرات نے بھی فوج کے اندر اندیشوں کو ہوا دی ہے۔ فوجی ذہنیت میں مذاکرات سیاسی میدان کا کھیل ہوتے ہیں میدان جنگ کا نہیں۔ لیکن ابھی بھی سو سے زائد اہلکاروں کی بازیابی کے لیے قبائلی جرگے کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر مشرف کا دور بطور آرمی چیف بھی اختتام پذیر ہے۔ قصہ مختصر، یہ تمام حالات آج کل کے سیاسی ماحول میں صدر مشرف کی بطور ایک فوجی رہنماء ناکامی کا ثبوت بنتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں یقینا یہ رائے موجود ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جن سے ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز بنے لیکن اگر ایسا نہیں تو ان حالات میں صدر مشرف کی مزید کمزوری نا صرف ان کے انتہا پسند مخالفین کو بلکہ ان کے بارے میں ان کے اپنے ادارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو ہوا دے سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے والا جنرل ضروری نہیں صدر مشرف ہی ہوں۔ پاکستان کی بری طرح سے بھڑکی ہوئی سیاست میں اگر کوئی نیا جنرل آ ٹپکا تو نہ تو اس کے کندھوں پر صدر مشرف کے ماضی کا بوجھ ہوگا اور نہ ہی وہ ان کے کیے گئے وعدوں کا پابند ہو گا۔ ایسی صورتحال بینظیر بھٹو ہی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی سیاسی رہنما کی سیاسی موت ثابت ہو سکتی ہے۔ شاید اسی لیے پی پی پی کی رہنما اس بات پر مکمل طور پر قائل نظر آتی ہیں کہ صدر مشرف سے مفاہمت میں ناکامی کی صورت میں ملک ایک بار پھر مارشل لاء کی شیطانیت کا شکار ہو سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی03 September, 2007 | پاکستان راولپنڈی خودکش حملے، 25 ہلاک، 66 زخمی04 September, 2007 | پاکستان دھماکے:’اب انتخابی مہم مشکل‘04 September, 2007 | پاکستان مذاکرات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ04 September, 2007 | پاکستان دبئی میں مذاکرات کا دوبارہ امکان04 September, 2007 | پاکستان اہلکار بازیاب نہ ہو سکے،جرگہ واپس02 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||