آمرانہ تدبیر یا تقدیر؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل مشرف کے دور میں ہونے والے دوسرے بلدیاتی الیکشن میں سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی بھرپور شمولیت سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ ایک فوجی حکمران کا دیا ہوا نظام پاکستان میں سیاسی بقاء حاصل کر چکا ہے۔ مگر اس نظام کو استحکام اور درازی عمر کس قیمت پر ملے گی؟ یہ کافی حیران کن امر ہے کہ موجودہ انتخابات میں یہ سوال کسی نے نہ اٹھایا۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے ٹیڑھے سوال اٹھانے والے یا تو یہ سوچ کر خاموش ہیں کے نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ یا وہ ہر طرح کی آمرانہ تدبیر کو تقدیر سمجھ کر صبر شکر کر کے بیٹھے ہیں۔ لیکن ذرا غور کریں تو احساس ہوتا ہے کہ حقیقت اس سے شاید کچھ بڑھ کر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ یہ سوال اہم نہیں یا پاکستان میں اس طرح کے ٹیڑھے سوال ماضی میں نہ اٹھائے گئے ہوں۔ پہلی مرتبہ یہ سوال انیس سو پچاسی
ان لوگوں کا کہنا تھا کے یہ نظام نہ صرف لوگوں کو سیاسی عمل اور نظریاتی وابستگی سے دور لے جائے گا بلکہ پورے معاشرے میں انتشار کا باعث بنے گا۔اس بات پر بڑی لے دے ہوئی، کالم لکھے گئے۔ تماتر سیاسی پابندیوں کے باوجود بحث مباحثے ہوئے۔ لیکن ان لوگوں کے خدشات کو جنرل ضیاء کے حامیوں نے یہ کہہ کر رد کر دیا کے یہ مغرب زدہ لوگ مغربی طرزِ جمہوریت کے سوا کچھ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ گو بالآخر وہی ہوا جو حکمرانِ وقت کی خواہش تھی لیکن بات تو چھڑی۔ کم از کم بحث تو ہوئی۔ ٹھیک بیس برس بعد آج ایک اور حاکم مطلق اپنے پیش کردہ غیر جماعتی نظام کے گن گا رہا ہے لیکن اس کی راگنی کی لے توڑنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس مسئلے پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی خاموشی خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ اگر انیس سوپچاسی کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو ان سے ہونے والی سیاسی تباہی صاف نظر آتی ہے۔ یہی وہ انتخابات تھے جنہوں نے پاکستان میں نظریاتی سیاست کی قبر کھودی۔ ان ہی کی وجہ سے ملکی سیاست چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں بٹ گئی۔ اور یہی انتخابات تھے جو پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا مفاد پرست ٹولا لیکر آئے جو آج بھی ملکی اداروں پر قابض ہے۔ اصولی طور پر تو یہ سب دلائل سیاسی جماعتوں کے لیے انتہائی مہلک سیاسی ہتھیاروں کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے تلخ تجربات سے کچھ ایسے نتائج اخذ کیے ہیں جن کے پیش نظر انتخابات کی جماعتی یا غیر جماعتی نوعیت ایک غیر اہم معاملہ بن گئی ہے۔ انیس سو پچاسی کے انتخابات کے وقت شاید پاکستان کی سیاسی جماعتیں یہ سمجھ رہی تھیں کہ فوج جو کر رہی ہے وہ نا سمجھی میں کر رہی ہے۔ اس لیے ان جماعتوں نے فوجی قیادت کو اپنی رائے دینا ضروری سمجھا۔ آج تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ فوج غیر جماعتی انتخابات سوچ سمجھ کر کرا رہی ہے کیونکہ وہ چاہتی ہی نہیں کہ پاکستانی معاشرہ سیاسی یا نظریاتی بنیادوں پر استوار ہو۔ اور اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ آج کل کے حالات میں فوج کے سامنے کھڑی ہونے والی کوئی سیاسی طاقت نہیں بچی۔ نہ صرف یہ بلکہ ہمارے زیادہ تر سیاست دان اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ فوجی قیادت کی خوشنودی کے بغیر کسی قسم کے سیاسی مقام کی خواہش رکھنا محض ایک دیوانے کا خواب ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج غیر جماعتی تجربات کے معاشرے پر ہونے والے اثرات کے بارے میں سوال اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ جنرل مشرف کے اس تجربے کے نتیجے میں اٹھنے والے طوفان کے شدت کا اندازہ ہمیں کئی سالوں بعد ہو گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے جنرل ضیاء کی تباہ کاریوں کا اندازہ ان کے جانے کے کئی سال بعد ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||