BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے ہاتھ سے وقت نکل رہا ہے: بینظیر

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو
’کانگریس پاکستان کی امداد بحالی جمہوریت سے مشروط کر دے‘
پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کے فوجی صدر پرویز مشرف کے ہاتھ سے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور وہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور ان کی وطن واپسی کے سلسلے میں کیے گئے وعدے پورے کریں

بینظیر بھٹو نیویارک میں امریکی خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینک’ کونسل آن فارن افئيرز‘ سے خطاب کر رہی تھیں۔

سابق پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’جنرل مشرف کے پاس ان کی پارٹی کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا پاس رکھنے کے لیے صرف دو تین ہفتے رہ گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف سے ان کے رابطے سنہ دو ہزار دو سے ہیں اور اب ان کے لیے وقت تنگ ہوتا جا رہا ہے، یا تو وہ اپنے وعدے پورے کریں یا پھر پاکستان میں سڑکوں پر جمہوری تحریک کے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کو پاکستان کی مزید امداد جمہوریت کی بحالی سے مشروط کر دینی چاہیے۔ بینظیر بھٹو نے ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے ایک غیر جانبدارانہ بااختیار مانیٹرنگ ادارے کے قیام پر اصرار کیا جو کہ بقول ان کے صدر مشرف کے ان کی جماعت کے ساتھ کیے گئے وعدوں میں سے ایک ہے۔

بینظیر بھٹو نے اس بات کو بھی دہرایا کہ پاکستانی عوام یوکرین کی طرح سڑکوں پر نکل کر حکمرانوں کے خلاف’نارنجی انقلاب‘ لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے لیے ملک میں جمہوریت کی بحالی کی راہ ہموار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے اور مشرف حکومت سے ایک سال سے زائد عرصے سے روابط ہیں۔ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے اپنی مقبولیت داؤ پر لگا کر صدر مشرف سے مذاکرات کیے ہیں اور اب فوجی صدر کو انتخابات سے قبل ان کی وطن واپسی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہیئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مختصر مدت کی حکمت عملیوں کی بجائے مارشل پلان کی ضرورت ہے۔

بے نظیر نے امریکہ اور مغرب پر زور دیا کہ وہ فوجی آمریت کا ساتھ نہ دیں۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ امریکہ آخر اس فوجی آمر کی حمایت کیوں کررہا ہے جو ملک میں انتہا پسندی اور طالبانیت ختم کرنے میں مکمل طور ناکام ہوگیا ہے۔

انہوں نے قبائلی علاقوں میں طالبان کے ساتھ حکومت کے معاہدے پر زبردست نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم انتہاپسندوں کو خوش کرنے کے لیے ملک کا استحکام اور خود مختاری داؤ پر نہیں لگا سکتے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوری پاکستان ہی افغانستان میں عدم مداخلت اور پاکستان میں خونریزی اور مذہبی دہشتگردی کو روکنے کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اسی بارے میں
بینظیر کا ریڈ نوٹس کالعدم
07 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد