پاکستان سیاسی بھنور کی گرفت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ساٹھ سال ایک ایسی کشمکش کی داستان ہیں جس میں ایک سطح پر سویلین اور فوجی حکمران اور دوسری سطح پر اعتدال پسند اور مذہبی قوتیں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ اس کشمکش میں پاکستان نہ تو جمہوریت بن سکا، اور نہ ہی قدامت پسند ریاست یا مستقل فوجی ڈِکٹیرشِپ۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ریاستی اداروں، قانون کی بالادستی اور قومی اتحاد کے عمل کو پہنچا ہے۔ سِول سوسائٹی کے لیے بھی اس کے سنگین نتائج پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستان کا مشرقی حصہ، جہاں ملک کی اکثریت بستی تھی، سن 1971 کی خانہ جنگی کے نتیجے میں اب بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ باقی ملک کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ پاکستان کا عدم استحکام شمال مغربی علاقوں میں ’طالبانائزیشن‘ کی شکل میں یا جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں قوم پرستوں کی علیحدگی پسندوں کی نہ ختم ہونے والی تحریک بن کر سامنے آیا ہے۔
یہ سب کیوں اور کیسے ہوا؟ سن 1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت دو راستے کھلے تھے۔ پاکستان جمہوریت بن سکتا تھا۔ برطانوی سامراج سے اسے حکمرانی کا تجربہ اور جمہوری ادارے وراثت میں ملے تھے۔ پاکستان خود قومی انتخابات، پارلیمانی قراردادوں اور ریفرنڈم جیسے جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ پاکستان ایک اسلامی امارات بھی بن سکتا تھا۔ تحریکِ پاکستان اس نظریے پر مبنی تھا کہ ہندوستانی مسلمان ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے، لہذا انہیں ایک علیحدہ ریاست کا حق تھا۔ انہیں برطانیہ سے جداگانہ انتخاب کا حق ملا تھا اور 1937 اور 1946 کے انتخابات میں انہوں نے اپنی اسلامی شناخت کو انتخابی نعروں کی حیثیت سے استعمال کیا۔ لیکن اس وقت کے پاکستانی رہنماؤں نے کسی واضح راستے کو منتخب کرنے کے بجائے جمہوریت اور اسلامی امارات دونوں راستوں پر چلنے کی کوشش کی اور غیردانستہ طور پر مذہبی، قانونی اور سیاسی ناکامیوں کی ایک ایسی سیریز شروع کردی جو آج پاکستان کے تشخص کی وجہ بنی ہوئی ہے۔
محمد علی جناح نے ایک حکم نامے کے ذریعے صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت کو برخاست کردیا اور نئے انتخابات کرانے کی بجائے وہاں مسلم لیگ کے ایک رہنما کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔ جبکہ انہوں نے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگالی بولنے والے سامعین سے خطاب میں اردو کو واحد ریاستی زبان قرار دینے کا دوسرا اہم فیصلہ کیا۔ محمد علی جناح کے پہلے فیصلے سے 1953 میں اس وقت کے گورنر جنرل اور سابق بیوروکریٹ غلام محمد کو ملک کی پہلی سویلین حکومت کو برخاست کرنے کا جواز مل گیا۔ تب سے ستائیس برسوں کے دوران ملک کے گورنر جنرلوں، صدور اور فوجی سربراہوں نے دس سویلین حکومتوں کو برخاست کیا جبکہ پاکستان کے تاریخ باقی تینتیس سال براہ راست فوجی حکومت کے سائے میں گزرے ہیں۔ مسٹر جناح کے دوسرے فیصلے کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے بنگالی قومی دھارے سے کٹ گئے اور ساتھ ہی مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو قانونی اور سیاسی داؤ پیچ کے ذریعے بےاثر بناتے رہے۔ سن 1971 میں مشرقی پاکستان کے الگ ہوجانے کے بعد فوجی حکمران بار بار سن 1973 کے آئین کے پارلیمانی اور وفاقی تشخص کو نقصان پہنچاتے رہے جس کے نتیجے میں بقیہ ملک کے تین چھوٹے صوبے بھی بےگانہ ہوگئے۔
نظریۂ ضرورت کا یہ اصول قائم رہا ہے اور لگ بھگ ہر سویلین حکومت کی برخاستگی یا فوجی بغاوت کو اس کے تحت جواز فراہم کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جمہوری اقدار پامال ہوتے گئے۔ دوسری سطح پر دیکھا جائے تو فوجی حکمران کٹھ پتلے سیاستدانوں اور مذہبی انتہاپسندوں کو قومی سکیورٹی پالیسی اور سیاسی لائحۂ عمل کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ اس طرح کے سیاست دان فوجی حکومتوں کو سویلین چہرے فراہم کرتے رہے جبکہ مذہبی انتہاپسند سیکولر حکومتوں کو غیرمستحکم بناتے رہے۔ پاکستان کے اس سفر میں امریکی کردار بھی اہم رہا ہے۔ امریکہ نے اپنی فوجی اور مالی امداد کو جمہوری حکومتوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ پہلی بار بڑے پیمانے پر امریکی غذائی اور فوجی امداد سن 1953 کے اواخر میں پاکستان آنا شروع ہوئی، یعنی پہلی سویلین حکومت کی برخاستگی کے بعد۔ اس طرح کی امداد ایک عشرے تک جاری رہی اور پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکی قیادت میں طے پانے والے مختلف فوجی معاہدوں میں شامل ہوتا رہا۔ لیکن سن 1972 میں ایک سویلین حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کو پاکستان سے مسائل کا سامنا ہونے لگا۔ لیکن امریکہ نے سن 1977 سے پاکستان میں بےتحاشہ پیسہ لگانا شروع کیا جب فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے کو تیار ہوگیا۔
لیکن اب اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ شاید امریکہ جنرل مشرف سے بیزار ہوگیا ہے۔ بالکل اسی طرح جب ہندوستان سے 1965 کی جنگ کے بعد جنرل ایوب خان سوویت یونین کے قریب ہونے لگے تھے اور امریکہ بیزار ہوگیا تھا۔ یا پھر 1987 میں افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی امریکہ جنرل ضیاء الحق سے بیزار ہوگیا تھا۔ پاکستان کے سیاسی افق پر پھر ایک سیاسی طوفان اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جیسا کہ ملک کے سیاسی موسم کا نہ ختم ہونے والا کوئی بھنور ہو۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں جلاوطن رہنما بینظیر بھٹو اور نواز شریف ملک واپسی کی باتیں کر رہے ہیں، بالخصوص اقتدار میں تبدیلی کی خاطر۔ لیکن جنرل مشرف اپنے پیش رو فوجی حکمرانوں کی طرح اپنی فوجی کرسی اور آئین کے تحت اسمبلیاں اور حکومتیں برخواست کرنے کے اپنے خصوصی اختیارات بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہذا پاکستان کی مختصر داستان یہ ہے کہ یہاں بدعنوان حکمران سیکولر جمہوری قوتوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے مذہبی انتہاپسندوں اور غیرملکی حمایت کا سہارا لیتے رہے ہیں اور جب یہ قوتیں زور پکڑتیں ہیں تو حکمران انہیں قانونی داؤ پیچ میں پھنسا کر ان کی ناکامی کو یقنی بناتے رہے ہیں۔ اور پاکستان گزشتہ ساٹھ برسوں سے اسی بھنور کی گرفت میں ہے۔ |
اسی بارے میں کاش برصغیر تقسیم نہ ہوتا13 August, 2007 | انڈیا ساٹھے پاٹھے05 August, 2007 | قلم اور کالم انوپ جلوٹا اور غلام علی کا نغمہ13 July, 2007 | فن فنکار ’بلوچوں کوتقسیم کیاجا رہا ہے‘27 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||