 | | | بھارت اور پاکستان دس روز بعد ساٹھے پاٹھے ہوجائیں گے |
سلور، گولڈن ، پلاٹینم یا ڈائمنڈ جوبلی منا کر جہاں قوموں کو خوشی ہوتی ہے وہیں انہیں گزرے برسوں میں اپنی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملتا ہے۔ مثلاً جنوبی کوریا کو جب پندرہ اگست انیس سو پینتالیس میں جاپانی چنگل سے نجات ملی تو اس وقت تک عالمی جنگ نے ملک کو ایک بڑے کھنڈر میں تبدیل کردیا تھا۔ پھر سن پچاس سے تریپن تک کی جنگِ کوریا نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ اس ملک کے پاس کوئی خاص معدنی دولت بھی نہیں تھی۔ بس ایک بہتر سا تعلیمی نظام تھا جس نے سیاسی اور فوجی آمریت کے لمبے سائے تلے بھی نہایت تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرلی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب کوریا دو برس پہلے ساٹھ سال کا ہوا تو وہ دنیا کی دس بڑی صنعتی قوتوں میں شامل تھا اور فی کس آمدنی اٹھارہ ہزار ڈالر سالانہ سے زائد تھی۔ انڈونیشیا نے جب جنوبی کوریا کی آزادی کے دو روز بعد ڈچ اور جاپانی چنگل سے نجات پائی تو پورا ملک لڑائی کے سبب جانکنی کے عالم میں تھا۔اس ملک نے آزادی کے بعد کے پینتالیس برس پہلے سوئکارنو کی سویلین اور پھر سوہارتو کی فوجی آمریت تلے گزارے۔ سیاسی تطہیر میں پانچ لاکھ بائیں بازو کے مخالفین مارے گئے۔انیس سو نوے کے عشرے میں اقتصادی کساد بازاری نے ملک کی کمر توڑ دی۔اس کے بعد سونامی نے قیامت مچا دی ۔  | گراف اوپر سے نیچے  پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی کا گراف اوپر سے نیچے اور بھارت کا گراف نیچے سے اوپر گیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب سے بیس برس پہلے تک پاکستان کا عام آدمی کہتا تھا کہ خدا کا شکر ہے ہم بھارت کی طرح بھوکے ننگے نہیں ہیں۔ لیکن آج یہ کہا جاتا ہے کہ ہم جمہوری اور اقتصادی لحاظ سے بھارت کی طرح کیوں نہیں ہوسکتے  |
اگرچہ اس عرصہ میں انڈونیشیا تیل سے مالامال ہونے کے باوجود اتنی ترقی نہ کرسکا جتنی اس کے ہمسائیوں نے کی، لیکن پھر بھی جب اس نے دو برس پہلے آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منائی تو ملک کم ازکم آئینی جمہوریت کی راہ پر پوری طرح گامزن ہوچکا تھا۔ سری لنکا اگلے برس ساٹھ سال کا ہوجائے گا۔ اگرچہ اس عرصہ میں وہاں تامل سنہالہ تنازعے نے ملک کی چولیں ہلا دیں لیکن ان حالات میں بھی اس کی فی کس آمدنی بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں ستر فیصد زائد رہی اور آئینی جمہوریت بھی پٹڑی سے نہیں اتری اور نوے فیصد تعلیمی خواندگی کے نتیجے میں سری لنکا جنوبی ایشیا کا سب سے پڑھا لکھا ملک بھی ہے۔ چین دو برس بعد ساٹھ سال کا ہوگا۔ کیمونسٹ انقلاب کے وقت وہ بھارت سے بھی زیادہ پسماندہ تھا۔ لیکن آج اٹھاون برس کی عمر میں چین دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری اور تیسری بڑی اقتصادی قوت ہے جو ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کے لئے کسی معجزے سے کم نہیں۔ ملائشیا ابھی صرف پچاس برس کا ہے۔ آزادی کے وقت ملائشیا کی شناخت صرف ٹن کی معدنیات اور پام آئل تھی اور اس کا شمار پاکستان سے بھی زیادہ غریب ممالک میں ہوتا تھا۔ لیکن آج اپنی ساٹھویں سالگرہ سے دس برس کے فاصلے کے باوجود ملائشیا جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دس روز بعد ساٹھے پاٹھے ہوجائیں گے۔ دنوں ایٹمی طاقتیں ہیں لیکن اس عرصہ میں پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی کا گراف اوپر سے نیچے اور بھارت کا گراف نیچے سے اوپر گیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب سے بیس برس پہلے تک پاکستان کا عام آدمی کہتا تھا کہ خدا کا شکر ہے ہم بھارت کی طرح بھوکے ننگے نہیں ہیں۔ لیکن آج یہ کہا جاتا ہے کہ ہم جمہوری اور اقتصادی لحاظ سے بھارت کی طرح کیوں نہیں ہوسکتے۔ یقیناً دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر ساٹھ کے ہونے کے بعد سٹھیا نہ جائیں۔ |