BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 September, 2006, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے

پاکستان میں ہر معاملے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جس ملک میں تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو، جہاں ادارے اپنے فرائص کی ادائیگی میں ناکام رہے ہوں اور جہاں حکومتی معاملات میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہو، اور جہاں اعلی عدالتیں ایک فوجی آمر کے زیر اثر ہوں، کیا ایسے ملک کو ایک ناکام ریاست کہا جا سکتا ہے؟

پاکستانی ریاست اپنے شہریوں کو امن و امان، تحفظ، پینے کا صاف پانی، بجلی اور دیگر سہولتیں دینے میں بڑی حد تک ناکام نظر آتی ہے ۔امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ پورے ملک میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ لوگوں کو اپنے گھروں میں بھی تحفظ کا احساس نہیں ہے اس لیے اکثر محلوں میں لوگوں نے ڈاکوں اور چوریوں سے بچنے کے لیے نجی سکیورٹی کمپنیوں کے گارڈز کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ پانی بھی خریدا جاتا ہے اور ٹینکروں کے ذریعے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں گھروں پر جنریٹرز لگوائے جا رہے ہیں۔ غرص یہ کہ بیشتر بنیادی سہولیات اب عوام کی اپنی ذمہ داری بن چکی ہیں۔

اس صورتحال کے نتیجے میں پوری قوم ایک انتشار کا شکار ہے اور’ یا شیخ اپنی اپنی دیکھ‘ کے مصداق ایک ہجوم میں بدل چکی ہے جس میں ہر فرد صرف اپنے لیے سوچ رہا ہے۔ کراچی کی ٹریفک پورے ملک کی مجموعی سیاسی اور سماجی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ پر شخص پہلے آگے نکلنے کی کوشش میں ہے اور اس کوشش میں سب نے اپنی اپنی سہولت کے حساب سے قوانین وضع کر لیے ہیں۔ سامنے ٹریفک لائٹ سرخ ہے اور آپ اس کے ہرے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن پیچھے والا انتظار کی زحمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور مسلسل ہارن بجا رہا ہے۔ یہ منظر کراچی کی سڑکوں پر اکثر نظر آتا ہے۔ شہر میں ٹریفک پولیس کے نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ ٹریفک جام ہونا معمول کی بات ہے خاص طور پر چورنگیوں کے اردگرد۔

جہاں ڈیڑھ گھنٹے کی بارش کے نتیجے میں پچیس افراد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوجاتے ہوں اور صنعتی علاقوں سمیت پورا شہر پانی میں ڈوب جاتا ہو اور اس دوران کراچی کی سائٹ ایسویشن کے ایک سابق صدر مجید عزیز کے مطابق صنعتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے ہر گھنٹے ساڑھے تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہو اور ریاستی اداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی ہو۔ کیا اس سب کے باوجود پاکستانی ریاست کو ایک ناکام ریاست نہیں کہا جا سکتا؟

عالمی معیار کے مطابق آخر ایک ناکام ریاست کی تعریف ہے کیا؟

دانشور اور تجزیہ نگار پروفیسر جمال نقوی کے مطابق جس ملک میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک خراب ہو جائے کہ اس کے درست ہونے کا کوئی امکان باقی نہ رہے، جہاں ادارے مکمل طور پر ناکام ہو جائیں اور سول سوسائٹی کے اندر دباو ڈالنے کی صلاحیت باقی نہ رہے۔ایسے ملک کو ایک ناکام ریاست کہا جاتا ہے۔’اس تعریف کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو ناکام ریاست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہاں اب بھی بہتری کی نہ صرف گنجائش موجود ہے بلکہ صلاحیت بھی ہے۔ مقننہ، عدلیہ اور دیگر ادارے اب بھی کسی حد تک اپنا کام کر رہے ہیں اور سول سوسائٹی اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے’ جمال نقوی کا کہنا ہے کہ ناکام ریاست ایک ایسے مریض کی طرح ہوتی ہے جس کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید باقی نہ رہے جبکہ پاکستان کے حوالے سے یہ صورتحال نہیں ہے۔ ’اداروں کی ناقص کارکردگی اور نااہلی ایک بات ہے اور ان کی مکمل ناکامی دوسری بات ہے۔ پاکستان میں اب بھی یہ امید باقی ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام مناسب طریقے سے کر سکتے ہیں‘۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بین القوامی تعلقات کے استاد ڈاکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ ناکام ریاست وہ ہوتی ہے جہاں معیشت اور سیاسی نظام اس حد تک تباہ ہو جائے کہ اس کے صحیح ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔’سیاسی اور معاشی نظام بنیادی انڈیکیٹرز ہیں۔افریقہ اور لاطینی امریکہ کی کچھ ریاستیں ہیں جنہیں ناکام کہا جا سکتا ہے لیکن پاکستان کا معاملہ مختلف ہے۔پاکستان کو بہت سے مسائل کے باوجود ایک ناکام ریاست نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان کی معاشی صورتحال اگر بہت اچھی نہیں تو بہت بری بھی نہیں بلکہ بہت سے ممالک سے بہتر ہے‘۔

ڈاکٹر وسیم کے مطابق پاکستان کا سیاسی نظام بھی اپنے تمام تر تضادات کے باوجود ناکام نہیں ہے۔ ’پاکستان میں فوج اور ملک کی آئینی روایات کے درمیان ایک جنگ جاری ہے اور فوج اپنی تمام تر کوشش کے باوجود ان آئینی روایات سے نہیں جیت سکی ہے لیکن فوج کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ان آئینی روایات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دے۔ یہ جنگ مسلسل جاری ہے۔ اسی جنگ کے نتیجے میں ملک میں کبھی جمہوری حکومت ہوتی ہے اور کبھی فوجی آمریت‘۔

اکثر سیاسی، سماجی اور معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اس وقت ناکام ریاست تو نہیں ہے لیکن جس راہ پر گامزن ہے وہ اس ملک کو ایک بند گلی کی طرف لے جا سکتا ہے۔اس ملک کو ایک ناکام ریاست قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں اور کیا یہ ملک ایک ایسے راستے پر چل رہا ہے جہاں آج نہیں تو کل ناکامی اس کا مقدر بن جائے گی اکثر ماہرین کے مطابق ان سوالات کا اٹھنا ہی اس بات کی علامت ہے کہ صورتحال خراب ہے۔

اسی بارے میں
حکومت ناکام ہوتی ہے ریاست نہیں
20 May, 2006 | قلم اور کالم
پاکستان جہاں تھا وہیں ہے
13 May, 2006 | قلم اور کالم
’پاک سر زمین شاد باد‘
02 May, 2006 | قلم اور کالم
پاکستان: جمہوریت کی بس کا وقت
01 June, 2006 | قلم اور کالم
پاکستان: عالمی ’ہسٹری شیٹر‘
20 May, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد