پاکستان جہاں تھا وہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں کوئی چار ماہ بعد واپس پاکستان آیا ہوں اور اتفاق سے جس دن گیا تھا اس دن کے اخبارات جوں کے توں گھر پر موجود تھے ورنہ عام طور پر میرے یہاں ہوتا یہ ہے کہ اخبار کے صفحے دن گزرنے سے پہلے ہی کسی الماری یا دراز کی زینت بن جاتے ہیں یا پھر کسی میز کی لکڑی کو داغ دھبے سے بچانے کے لیئے چائے کے مگے یا پیالی کے نیچے رکھ دیئے جاتے ہیں۔ بہر حال اس دن کے اخبارات مجھے محفوظ ملے اور حیرت کی بات ہے کہ ان کی جو سرخیاں تھیں ان میں اور جس دن میں یہاں پہنچا ہوں اس دن کی سرخیوں میں نام اور تاریخ کے سوا کوئی فرق نہیں محسوس ہوا۔ اس دن بھی شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں ہر قیمت پر حکومت کی عملداری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا اور چار ماہ بعد بھی اسی عزم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس دن کے اخبارات میں بھی حکمراں اتحاد اور مسلم لیگ کی صفوں میں اتحاد قائم رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جارہا تھا اور اب بھی یہی کیفیت ہے۔ اس دن کے اخبارات میں بھی ملک کی اقتصادی ترقی اور ایک روشن مستقبل کے دعوے کیئے گئے تھے اورکچھ اغوا اور قتل مقاتلے کی خبریں شائع ہوئی تھیں اور آج بھی یہی عالم ہے۔ ایک تبدیلی ضرور آئی ہے اور وہ یہ کہ وفاقی کابینہ میں، جو پہلے ہی پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ تھی، مزید کچھ لوگوں کو شامل کرلیا گیا ہے۔ ان میں، میں کسی کو جانتا تو نہیں ہوں لیکن وزارت اطلاعت کا قلمدان جناب محمد علی درانی کو سونپ کر جناب شوکت عزیز نے جو احسان ہمارے جیسے لوگوں پر کیا ہے اس کے لیئے میں ان کا مشکور ضرورہوں۔
یقین مانئےجناب صدر اور خود وزیراعظم کے ایک ہی جیسے بیانات سن سن کر کان پک گئے تھے لیکن اب جناب محمد علی کے ایک انٹرویو یا پینل ڈسکشن سے ہی اس کا ازالہ ہوجاتا ہے۔ وہ اگر اکبراعظم کے دور میں پیدا ہوتے تو یقینی اسکے نورتنوں میں شامل ہوتے اور ان کو بادشاہ سے وہی قربت حاصل ہوتی جو بیربل یا ملا دو پیازہ کو تھی(اگر اس نام کا کوئی درباری تھا) ۔میں ان کے انتخاب کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حذب اختلاف نے بھی اپنے روئیے میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی ہے۔ وہ جو جمہوریت کی بحالی کے لیئے تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے تھے اب بھی دے رہے ہیں، متحدہ مجلس عمل کبھی کسی جمعہ کو کوئی ہڑتال کی اپیل کر دیتی ہے اور وہ جذوی طور پر کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن اے آر ڈی نواز بے نظیر ملاقات کے بعد کچھ خاموش سی ہوگئی ہے۔ غالباً جمہوریت کا چارٹر یا منشور بنانے میں مصروف ہے۔ دیکھیئے کب تیار ہوتا ہے۔ ویسے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی تحریک چلانے کے لیئے منشور سے زیادہ کسی منصور کی ضرورت ہے اور اے آر ڈی کی قیادت میں وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ ادھرنائجیریا میں تیل کی پائپ لائین پھر پھٹ گئی اور آخری اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ سوافراد ہلاک ہوگئے۔ میں نے ’پھر‘ کا لفظ یوں استعمال کیا کہ نائجیریا کی پائپ لا ئنوں میں گزشتہ کوئی دس سال میں اپنی نوعیت کا یہ ساتواں دھماکہ ہے اور ابتک ان دھماکوں میں مجموعی طور پر دو ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس حادثے کی وجہ بھی وہی بتائی جاتی ہے جو گزشتہ حادثوں کی تھی یعنی تیل کی چوری۔ اس حادثے کے بعد ایک سرکاری ترجمان نے ہلاک شدگان کے پسماندگان سے ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت لوگوں کو یہ باور کرانے کی ہرممکن کوشش کرتی ہے کہ تیل کی پائپ لائنوں میں سوراخ کر کے تیل نکالنا بہت خطرناک ہے اس کے باوجود لوگ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آتے۔ مشکل یہ ہے کہ نائجیریا کے تیل سے جو آمدنی ہوتی ہے اس سے وزراء، اعلیٰ سول اور فوجی اہلکار اور قبائیلی سردار انتہائی عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہیں لیکن یہاں کے عوام کے حصے میں اتنا ہی آتا ہے جو وہ چوری کرتے ہیں۔ اس کی فوج افریقی ملکوں میں بہت بڑی ہے لیکن عوام میں غربت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ دنیا میں جو ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں وہی غربت، بھوک ، افلاس اور ناخواندگی کا بھی شکار ہیں۔ نائجیریا کا تیل یورپ اور امریکہ کے کارخانے چلاتا ہے، ان کے شہر بقئہ نور بنے رہتے ہیں اور خود نائجیریا کے عوام اپنے پیٹ بھرنے اور اپنے تاریک مکانوں میں روشنی کے لیئے اسے چوری کرنے پر مجبور ہیں اور اس چوری سے ان کا پیٹ بھرتا ہے یا نہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن پائپ لائین میں آگ اکثر لگ جاتی ہے اوران کی ساری آرزؤں، امیدوں کو ان کے جسم کے ساتھ بھسم کردیتی ہے۔ یہ سلسلہ صرف نائجیریا کے تیل تک ہی محدود نہیں دوسرے افریقی ممالک بھی جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں اسی طرح کی صورتحال سے دو چار ہیں۔ سیرا لیون، انگولا، کانگواپنے قیمتی پتھر کوڑیوں کے مول فروخت کرکے ایک دوسرے سے لڑنے کے لیئےسونے کے بھاؤ اسلحہ خریدتے ہیں۔ مجھےیہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ ان ملکوں کے قیمتی پتھروں کودوسرے ملکوں میں خواتین کی زیبائش اور آرایش کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ جن ملکوں میں یہ نکالے جاتے ہیں وہاں کے مرد ننگے پیر ننگے سر چیتھڑوں میں ملبوس ایک رائفل لٹکائے دشمن کی تلاش میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں اور عورتیں اپنی سوکھی چھاتیاں اپنے بھوکے بچوں کے منہ میں دیئے کسی غیبی مدد کے انتظار میں بیٹھی دکھائی دیتی ہیں جو اب شائد نہیں آتی۔ یہ سب دیکھ کر رسم دعا یاد نہ ہونے کے باوجود کبھی کبھی دعا کے لیئے ہاتھ اٹھانے کو دل چاہنے لگتا ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ میں قربانی کے بکرے کی تلاش15 April, 2006 | قلم اور کالم چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کیوں؟22 April, 2006 | قلم اور کالم عجیب مانوس اجنبی تھا۔۔۔۔26 January, 2006 | قلم اور کالم ’شرپسند پھر بچ نکلے‘18 March, 2006 | قلم اور کالم پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر08 April, 2006 | قلم اور کالم ہند-پاک مذاکرات صحیح راستے پر01 April, 2006 | قلم اور کالم ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے24 September, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||